بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کسی مکتبہ کا درسی اور خارجی دونوں کتابوں کو ایک ہی عقد میں ایک ساتھ بیچنے کا اصول اپنانا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مشہور مکتبہ  والوں نے ایک اصول اپنایا ہے کہ ہر آرڈر کے ساتھ ہماری جو نئی کتابیں آئی ہیں وہ روانہ کی جائیں گی، اور اگر دکاندار اس کو قبول نہیں کرتےتو سارا آرڈر کینسل کر دیتے ہیں،  تو کیا ایسا کرنا شرعاً جائز ہے؟

اگر ایسا کرنا شرعاً جائز ہے تو کیا دکان دار کے لیے ایسا کرنا جائز ہے کہ وہ طالبِ علم کو کہے کہ ہم مذکورہ” مشہور مکتبہ“ کی کتابیں آپ کو تب دے سکیں گے جب آپ مثلاً: دورۂ حدیث کی درسی کتابوں کے ساتھ اس ”مشہور مکتبہ“ کی جو خارجی کتابیں ہیں وہ بھی ہم سے لے؟ راہ نمائی فرمادیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ مکتبہ والوں نے پہلے سے”درسی کتابوں کے ساتھ اپنی نئی خارجی کتابیں “ بھی ایک ساتھ بیچنےاور  الگ الگ  نہ بیچنے کا اصول اپنایا ہے تو یہ اصول خلافِ شرع نہیں ہے،اس لیے کوئی دکان دار اس مکتبہ سے کتابوں کا آرڈر کرے گا تووہ  شرعاً بھی مکتبہ کے اصول کا پاپند ہوگا،یعنی دکان دار چاہے تو مکتبہ کےاصول کے مطابق  درسی اور خارجی دونوں کتابیں ایک ساتھ خریدے یا چاہے تو دونوں نہ خریدے، لیکن صرف درسی کتابوں کو خرید کر خارجی کتابوں کو نہ خریدنے کی صورت میں مکتبہ والوں کے اپنائے ہوئے اصول کے خلاف ایک ہی عقد میں دو مختلف کتابوں کی تفریق لازم آئے گی،جوکہ  شرعاً جائز نہیں ہے۔

اسی طرح اگر دکان دار  بھی مذکورہ مکتبہ والوں کی طرح اصول اپنا کر خریدار طالبِ علم کو درسی اور خارجی کتابیں ایک ساتھ فروخت کرے تو اس  میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، اس صورت میں طالبِ علم کو اختیار ہوگا کہ چاہے تو درسی اور خارجی کتابیں دونوں ایک ساتھ خریدے یا چاہے تو دونوں نہ خریدے، لیکن شرعاً اسے صرف درسی کتابوں کو خرید کر خارجی کتابوں کو چھوڑنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔

مرآۃ المجلۃ شرح مجلۃ الأحکام العدلیۃ میں ہے:

"إذا أوجب أحد العاقدین بیع شئ بشئ یلزم لصحة العقد قبول العاقد الأخر علی الوجۃ المطابق للإیجاب، ولیس له تبعیض الثمن أو المثمن وتفریقهما، فلو قال البائع للمشتری بعتك هذا الثوب بمائة غرش مثلاً، فإذا قبل المشتري البیع علی الوجه المشروح أخذا جمیعه بمائة غرش، ولیس له أن یقبل جمیعه أو نصفه بخمسین غرشاً، وكذا لو قال له: بعتك هذین الفرسین بثلاثة ألاف ؑرش وقبل المشتري یأخذ الفرسین بثلاثة ألاف، ولیس له أن یأخذ أحدهما بألف وخمس مائة"

(الفصل الثاني في بیان لزوم مواققه القبول الإیجاب: ج:1،ص:71،ط: المطبعة العمومیة)

بدائع الصنائع میں ہے:

" وجملة الكلام فيه أن المبيع لا يخلو إما أن يكون شيئا واحدا حقيقة وتقديرا؛ كالعبد والثوب والدار والكرم والمكيل والموزون والمعدود المتقارب في وعاء واحد أو صبرة واحدة وإما أن يكون أشياء متعددة كالعبدين والثوبين والدابتين والمكيل والموزون والمعدود في وعاءين أو صبرتين....ولو كانت الصفقة تامة قبل القبض لما احتمل الانفساخ بنفس الرد كما بعد القبض فيثبت بهذه الدلائل أن الصفقة ليست بتامة قبل القبض، والدليل على أنه لا يجوز تفريق الصفقة على البائع قبل تمامها أن التفريق إضرار بالبائع، والضرر واجب الدفع ما أمكن، وبيان الضرر أن المبيع لا يخلو إما أن يكون شيئا واحدا وإما أن يكون أشياء حقيقة شيئا واحدا تقديرا، والتفريق تضمن الشركة والشركة في الأعيان عيب فكان التفريق عيبا وأنه عيب زائد لم يكن عند البائع فيتضرر به البائع.

وإن كان المبيع أشياء فالتفريق يتضمن ضررا آخر وهو لزوم البيع في الجيد بثمن الرديء؛ لأن ضم الرديء إلى الجيد والجمع بينهما في الصفقة من عادة التجار ترويجا للرديء بواسطة الجيد فمن الجائز أن يرى المشتري العيب بالرديء فيرده فيلزم البيع في الجيد بثمن الرديء فيتضرر به البائع فدل أن في التفريق ضررا فيجب دفعه ما أمكن ولهذا لم يجز التفريق في القبول بأن أضاف الإيجاب إلى جملة فقبل المشتري في البعض دون البعض دفعا للضرر عن البائع بلزوم حكم البيع في البعض من غير إضافة الإيجاب إليه؛ لأنه ما أوجب البيع إلا في الجملة فلا يصح القبول إلا في الجملة لئلا يزول ملكه من غير إزالته فيتضرر به، على أن تمام الصفقة لما تعلق بالقبض كان القبض في معنى القبول من وجه فكان رد البعض وقبض البعض تفريقا في القبول ومن وجه فلا يملك إلا أن يرضى البائع برد المعيب عليه فيأخذه ويدفع حصته من الثمن فيجوز ويأخذ المشتري الباقي بحصته من الثمن؛ لأن امتناع الرد كان لدفع الضرر عنه نظرا له فإذا رضي به فلم ينظر لنفسه."

(کتاب البیوع، خیار الشرط: ج:5، ص:287، ط: دار الکتب العلمیة)

فتاوٰی شامی میں ہے:

"مطلب ما يوجب اتحاد الصفقة وتفريقها (قوله: لئلا يلزم تفريق الصفقة) هي ضرب اليد على اليد في البيع، ثم جعلت عبارة عن العقد نفسه مغرب. قال: في البحر: ولا بد من معرفة ما يوجب اتحادها وتفريقها. وحاصل ما ذكروه: أن الموجب إذا اتحد وتعدد المخاطب لم يجز التفريق بقبول أحدهما بائعا كان الموجب أو مشتريا وعلى عكسه لم يجز القبول في حصة أحدهما، وإن اتحدا لم يصح قبول المخاطب في البعض فلم يصح تفريقها مطلقا في الأحوال الثلاثة لاتحاد الصفقة في الكل، وكذا إذا اتحد العاقدان، وتعدد المبيع كأن يوجب في مثلين أو قيمي ومثلي لم يجز تفريقها بالقبول في أحدهما إلا أن يرضى الآخر بذلك بعد قبوله في البعض، ويكون المبيع مما ينقسم الثمن عليه بالأجزاء كعبد واحد أو مكيل أو موزون، فيكون القبول إيجابا والرضا قبولا وبطل الإيجاب الأول، فإن كان مما لا ينقسم إلا بالقيمة كثوبين وعبدين لا يجوز فلو بين ثمن كل واحد فلا يخلو إما أن يكرر لفظ البيع، فالاتفاق على أنه صفقتان، فإذا قبل في أحدهما يصح كقوله بعتك هذين العبدين بعتك هذا بألف وبعتك هذا بألف، وأما أن لا يكرره وفصل الثمن فظاهر الهداية التعدد، وبه قال: بعضهم ومنعه الآخرون، وحملوا كلامه على ما إذا كرر لفظ البيع، وقيل: إن اشتراط تكراره للتعدد استحسان، وهو قول الإمام، وعدمه قياس وهو قولهما ورجحه في الفتح بقوله: والوجه الاكتفاء بمجرد تفريق الثمن؛ لأن الظاهر أن فائدته ليس إلا قصده بأن يبيع منه أيهما شاء، وإلا فلو كان غرضه أن لا يبيعها منه إلا جملة لم تكن فائدة لتعيين ثمن كل. اهـ."

(کتاب البیوع، مطلب ما يوجب اتحاد الصفقة وتفريقها: ج:4، ص:526، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"وأما شرط العقد فموافقة القبول للإيجاب بأن يقبل المشتري ما أوجبه البائع بما أوجبه، فإن خالفه بأن قبل غير ما أوجبه أو بعض ما أوجبه أو بغير ما أوجبه أو ببعض ما أوجبه لم ينعقد لتفرق الصفقة، وإنه لا يجوز إلا في الشفعة"

(کتاب البیع، شرط العقد: ج:5، ص:279، ط: دار الکتاب الإسلامي)

بہشتی زیور میں ہے:

”کسی کے پاس چار چیزیں ہیں بجلی، بالی، بندے، پتے، اس نے کہا کہ یہ سب میں نے چار آنہ میں بیچا تو بغیر اس کی منظور کے یہ اختیار نہیں کہ بعض چیزیں لے اور بعض چیزیں چھوڑ دے...“

(بیچنے اور مول لینے کا بیان: 346، ط: دار الاشاعت)

فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144408101521

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں