بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 ذو القعدة 1445ھ 21 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کسی کو بُھولنے، دل سے نکالنے اور سکونِ قلب کے لیے وظائف


سوال

1۔ کسی کو بھولنے کا وظیفہ یا کسی کو دل سے نکالنے کا وظیفہ یا دعا بتا دیں۔

2۔ سکون قلب کے لیے بھی وظیفہ بتا دیں۔

جواب

 صورتِ مسئولہ میں سوال سے مقصود اگر عشقِ مجازی/ کسی نا محرم کی محبت کو دل سے نکالنا اور بُھلانا ہے سائلہ کو چاہیے کہ   درج ذیل دعائیں یاد کر لےاور ہر نماز کے بعد انہیں پڑھا کرے تو اللہ تعالی بہتری کا معاملہ فرمائیں گے ان شاء اللہ! 

(الف) ’’اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَسأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَن یُحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُ إِلٰى حُبِّكَ.‘‘

(ب) ’’اَللّٰهُمَّ أعِنِّيْ عَلىٰ ذِكْرِكَ وَ شُکرِكَ وَ حُسنِ عِبَادَتِكَ.‘‘

نیز روزانہ دو رکعت نفل توبہ اور حاجت کا ارادہ دل میں رکھ کر پڑھے، اور اس کے بعد یہ دعا سات مرتبہ مانگے:

"اَللّٰهُمَّ  إِنِّیْ أَسْأَلُكَ الْھُدىٰ وَالتُّقىٰ وَالْعَفَافَ وَالْغِنىٰ". (مسلم، رقم:2721)

مزید یہ کہ سائلہ کو چاہیے کہ نا محرم سے دور رہے، اس سے نہ ملے، نہ اُسے سوچے، خود کو نیک اعمال یا بامقصد جائز کاموں میں اتنا مصروف رکھے کہ اس طرف دھیان ہی نہ رہے۔

ذہنی و قلبی سکون کے لیے پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کے ساتھ تلاوتِ قرآن کریم کا معمول، ذکر اللہ، درود شریف اور استغفار کا حسبِ توفیق زیادہ سے زیادہ اہتمام قلبی سکون کے لیے بہترین وظیفہ ہے۔ البتہ ان معمولات کے ساتھ اگر سائلہ چاہے تو قرآن مجید کی درج ذیل آیت ہر نماز کے بعد گیارہ مرتبہ پڑھ لیا کریں :

"{وَ لِيَرْبِطَ عَلٰى قُلُوْبِكُمْ وَ يُثَبِّتَ بِهِ الْاَقْدَامَ}."(سورة الانفال، الآية:11)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144502100610

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں