بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شعبان 1445ھ 21 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

کسی کو اپنا گھر بینک کے پاس بطورِ ضمانت لکھوانے کے لیے دینا


سوال

ایک آدمی مجھے کہتا ہے کہ میں آپ کا گھر بینک کو ضمانت کے طور پر لکھوا دوں گا تو بینک مجھے کاروبار کے لیے ایک کروڑ روپیہ اسلامی طریقے سے قرض دے گا، کیوں کہ میرے گھر کی قیمت ایک کروڑ سے زیادہ ہے اور آپ کے گھر کو ضمانت کے طور پر لکھوانے کے عوض بیس لاکھ روپیہ دے دوں گا، اب میرے لیے گھر ضمانت پر رکھواکر اس آدمی سے بیس لاکھ روپیہ لینا شرعاً کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کا دوست اس کا گھر بینک کے پاس بطورِ ضمانت لکھوانا چاہ رہا ہے، اور وہ محض اس لکھوانے کے عوض سائل کو بیس لاکھ روپے دے رہا ہے، تو سائل کے لیے شرعاً یہ بیس لاکھ روپے لینا درست نہیں ہے، اس لیے کہ سائل صرف اپنے گھر کا نام لکھوانے کا حق دے رہا اور شرعاً حقوقِ مجردہ کا عوض لینا درست نہیں ہے۔

نیز یہ بات بھی واضح رہے کہ مروجہ غیر سودی بینکوں کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے، اور مروجہ غیر سودی بینک اور روایتی بینک کے بہت سے معاملات درحقیقت ایک ہیں، لہٰذا جس طرح روایتی بینکوں سے قرضہ لینا جائز نہیں ہے اسی طرح مروجہ غیر سودی بینکوں سے بھی قرضہ لینا جائز نہیں، لہٰذا سائل اگر بغیر کسی عوض کے اپنا گھر کسی کو دیتا ہے تاکہ وہ ناجائز طریقہ سے قرضہ حاصل کرے تو سائل گناہ پر معاونت کرنے کی وجہ سے گناہ گار ہوگا۔

قرآن کریم میں ہے:

"وَتَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْبِرِّ وَٱلتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا۟ عَلَى ٱلْإِثْمِ وَٱلْعُدْوَٰنِ ۚ ." (سورة المائدة: 2)

ترجمہ: ’’اور ایک دوسرے کی نیک کام اور پرہیزگاری میں مدد کیا کرو اور گناہ اور زیادتی پر مدد نہ کیا کرو۔‘‘

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"قوله تعالى: ولا تعاونوا على الإثم والعدوان فيعم النهي كل ما هو من مقولة الظلم والمعاصي، ويندرج فيه النهي عن التعاون على الاعتداء والانتقام. وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما وأبي العالية أنهما فسرا الإثم بترك ما أمرهم به وارتكاب ما نهاهم عنه، والعدوان بمجاوزة ما حده سبحانه لعباده في دينهم وفرضه عليهم في أنفسهم، وقدمت التحلية على التخلية مسارعة إلى إيجاب ما هو المقصود بالذات، وقوله تعالى: واتقوا الله أمر بالاتقاء في جميع الأمور التي من جملتها مخالفة ما ذكر من الأوامر والنواهي، ويثبت وجوب الاتقاء فيها بالطريق البرهاني."

(سورة المائدة، ج: 3، ص: 230، ط: دار الكتب العلمية بيروت)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن ‌الحقوق ‌المجردة."

(كتاب البيوع، ج: 4، ص: 518، ط: دار الفكر بيروت)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"وكذلك يجوز رهن مال الغير بإذنه كما لو استعار شيئا من إنسان ليرهنه بدين على المستعير كذا في البدائع."

(كتاب الرهن، الفصل الأول في تفسير الرهن، ج: 5، ص: 432، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144404100386

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں