بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کسی کی تذلیل کرنا حرام ہے


سوال

ایک عورت جس کی عمر 65 سال ہے، جو 49 سال سے شادی شدہ عورت ہے، اور جوان 7 بچوں کی ماں ہے، اور دادی، نانی بن چکی ہے، خاوند کے زندہ ہوتے ہوئے بھی ، اس بات اور عمل کا اظہار کر چکی ہے، اور ان کی وفات کے بعد بھی اپنے بیٹوں کے سامنے 2 سے 3 مرتبہ بول چکی ہے کہ: تم سب اپنے باپ کی کم نسل اولاد ہو، اور میرا خاندان  تو بہت بڑا ہے، اور مزید اپنے بچوں کے سامنے باپ اور بچوں کے خاندان کی تذلیل کرتی ہے۔جب بڑا بیٹا منع کرتا ہے، تو غصہ سے بھڑک جاتی ہے، اور اُس کو بد دعائیں دیتی ہے۔

کیا بیٹا اس بات پر اپنی ماں کو منع کرسکتا ہے؟ اور ماں کو یہ عمل زیب دیتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی کو حقیر سمجھنا، کسی کی تذلیل کرنا، اور اپنے آپ کو بڑا سمجھنا یہ سب نا جائز اور حرام ہے، اللہ تعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں:

"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ." [الحجرات: 11] 

ترجمہ:"اے ایمان والوں! نہ مردوں کو مردوں پر ہنسنا چاہیے، کیا عجب ہے کہ جن پر ہنستے ہیں وہ ان ہنسنے والوں سے خدا کے نزدیک بہتر ہوں اور نہ عورتوں کو عورتوں پر ہنسنا چاہیے، کیا عجب ہے کہ وہ ا ن سے بہتر ہوں۔"(بیان القرآن)

اور خاندانی حسب نسب پر فخر و مباہات کرنا زمانہ جاہلیت کی باطل رسومات میں سے ہے، اور یہ بھی ناجائز ہے، اور احادیث میں اس عمل پر بھی نکیر وارد ہوئی ہے، اور بحیثیت بنی آدم تمام کے تمام انسان برابر ہیں، اور کسی کو کسی پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، سوائے تقوی کے۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ عورت کا اس طرح اپنے آپ پر فخر کرنا، اور اپنی اولاد اور شوہر کو، اور ان کے خاندان کو حقیر سمجھنا اور ان کی تذلیل کرنا ناجائز اور حرام ہے۔

اور جو بیٹا ان کو اس عمل سے روکتا ہے وہ حق بجانب ہے، اور ماں کا ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہوئے انہوں اچھے انداز میں سمجھانے کی کوشش جاری رکھے، اور اللہ سے ان کی ہدایت کی دعائیں بھی کرے۔

قرآن كريم ميں هے:

"يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ".  [الحجرات:13] 

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"فجميع الناس في الشرف بالنسبة الطينية إلى آدم وحواء سواء، وإنما يتفاضلون بالأمور الدينية، وهي طاعة الله ومتابعة رسوله صلى الله عليه وسلم؛ ولهذا قال تعالى بعد النهي عن الغيبة واحتقار بعض الناس بعضا، منبها على تساويهم في البشرية: {يا أيها الناس إنا خلقناكم من ذكر وأنثى وجعلناكم شعوبا وقبائل لتعارفوا} أي: ليحصل التعارف بينهم، كل يرجع إلى قبيلته."

(ج:7، ص:385، ط:دار طیبہ)

وفیه أ یضاً:

"ينهى تعالى عن السخرية بالناس، وهو احتقارهم والاستهزاء بهم، كما ثبت في الصحيح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "الكبر بطر الحق وغمص الناس" ويروى: "وغمط الناس" (1) والمراد من ذلك: احتقارهم واستصغارهم، وهذا حرام، فإنه قد يكون المحتقر أعظم قدرا عند الله وأحب إليه من الساخر منه المحتقر له؛ ولهذا قال: {يا أيها الذين آمنوا ‌لا ‌يسخر قوم من قوم عسى أن يكونوا خيرا منهم ولا نساء من نساء عسى أن يكن خيرا منهن} ، فنص على نهي الرجال وعطف بنهي النساء."

(ج:7، ص:376، ط:دار طیبہ)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144308101771

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں