بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کسی کی طرف جھوٹ منسوب کرنا


سوال

ایک فارغ التحصیل اور عالم دین یوٹیوب پر کسی عالم کادرس سنتا ہے اور پھر شروح کا مطالعہ بھی کرتا ہے تو آیا دوران درس وہ طلباء کو یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے استاد یہاں یہ ارشاد فرما تے تھے اور وہ بات کہہ دیتا ہے جو یوٹیوب پر عالم سے سنا ہو۔

جواب

واضح رہے کہ جاندار کی تصاویر پر مشتمل ویڈیو دیکھنا خواہ وہ ویڈیو کسی دینی غرض سے بنائی گئی ہو، اس کا دیکھنا شرعا جائز نہیں ہے،البتہ آڈیو بیان یا درس سننا شرعا جائز ہے،باقی صورت مسئولہ میں اگرواقعۃ ً  اس شخص نے کوئی ایسی بات جو اس نے   اس مقام پر اپنے استاذ سے نہیں سنی  اور دوارانِ درس اس نے وہ بات اپنے استاذ کی طرف منسوب کردی  تو یہ استاذ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے کے حکم میں ہے،اور شرعا جھوٹ بولنا اور کسی کی طرف جھوٹ منسوب کرنا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن سفيان بن أسيد الحضرمي، قال: سمعت رسول الله -صلى الله عليه وسلم-يقول: "‌كبرت ‌خيانة أن تحدث أخاك حديثا هو لك به مصدق، وأنت له به كاذب."

(سنن ابی داود،باب فی المعاریض،ج7،ص327،ط؛دار الرسالۃ العالمیۃ)

ترجمہ: ’’یہ ایک بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو، جس حوالے سے وہ تجھے سچا سمجھتا ہے، حال آں کہ تم اس سے جھوٹ بول رہےہو۔‘‘

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"وأما فعل التصوير فهو غير جائز مطلقا لأنه مضاهاة لخلق الله تعالى كما مر."

(کتاب الصلاۃ،ج1،ص650،ط؛سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403100668

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں