بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو القعدة 1445ھ 18 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کسی کافر کو مسلمان سے اچھا کہنا


سوال

کسی  کافر کو مسلمان سے اچھا کہنا کیسا ہے؟ یعنی یہ کہنا کہ فلاں سے توکافر اچھا ہے یا مسلمانوں سے کافر اچھے ہیں ؟

جواب

کسی بھی کافر کو مسلمان سے اچھا کہنا درست نہیں کیوں کہ کافر ظاہری اخلاق کے  اعتبار سے جتنا بھی اچھا ہوجاۓ اگر اُس کے اندر ایمان کی دولت نہیں تو اُس کے یہ اچھےاخلاق  ایمان کے مقابلے میں کچھ  حیثیت نہیں رکھتے، بلکہ درحقیقت  دنیاوی اور اخروی دونوں اعتبار سے ایسا شخص اخلاق سے عاری ہے اور اس کا اچھا برتاؤ  صرف دکھلاوا اور بناوٹ ہے؛ کیوں کہ جو شخص اپنے خالق، مالک، رازق اور حقیقی محسن کو نہ پہچانے، اس کے وجود کا منکر ہو، اس کے ساتھ شریک ٹھہرائے وہ حق ناشناس اور احسان فراموش ہے، اور  احسان فراموش یا حق ناشناس شخص بااخلاق نہیں ہوسکتا۔

اور اُخروی اعتبار سے بھی اگر دیکھیں تو کوئی شخص جتنا بھی اچھے اخلاق والا ہوجاۓ،  لیکن اگر  ایمان کی دولت اُس کے پاس نہ ہو تو آخرت میں ہمیشہ ہمیشہ کی ناکامی کا سامنا کرناپڑے گا اور اُس کا ٹھکانہ دوزخ ہوگا ، قرآنِ کریم میں جگہ جگہ اس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے ، چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے : 

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ أُولَٰئِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ . ( البینة : ٦ )

جب کہ اس کے مقابلے میں اگر کسی کا دل ایمان کے نور سے منور ہو  اگر چہ اُس کے دل میں  معمولی سی بھی ایمان کی چنگاری کیوں نہ  ہو،  لیکن آخرت میں یہی  چنگاری  کام آۓ گی اور اُسی کے بدولت ایمان والا ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی حاصل کرلے گا اور اُس کا ٹھکانہ جنت ہوگا۔ 

لہٰذا کسی بھی کافر کو کسی بھی مسلمان کے مقابلے میں اچھا کہنا صرف یہ کہ درست نہیں، بلکہ اگر کوئی اس پر اصرار  کرے تو خُدا نہ خواستہ اُس شخص کے ایمان کی دولت سے محروم ہونے  کا  بھی خطرہ  ہے۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201499

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں