بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کسی حرام چیز کو حلال کہنے کا حکم


سوال

کسی بھی حرام چیز کو غلطی سے یا بھول کر حلال کہنا کیسا ہے؟ اس سے ایمان خراب ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب

جس چیز کی  حرمت نصوصِ  قطعیہ سے ثابت ہو، اس کے حلال ہونے کا اعتقاد رکھنے سے  توآدمی کافر ہوجاتا ہے، البتہ اگر بھولے سے یا لاعلمی میں کسی حرام چیز کو حلال کہہ دیااور حقیقت سامنے آنے کے بعد رجوع کرلیا ، تو اس سے کفر لازم نہیں آتا۔

رد المحتار میں ہے:

"مطلب استحلال المعصية القطعية كفر لكن في شرح العقائد النسفية: استحلال المعصية كفر إذا ثبت كونها معصية بدليل قطعي، وعلى هذا تفرع ما ذكر في الفتاوى من أنه إذا اعتقد الحرام حلالا، فإن كان حرمته لعينه وقد ثبت بدليل قطعي يكفر وإلا فلا بأن تكون حرمته لغيره أو ثبت بدليل ظني. وبعضهم لم يفرق بين الحرام لعينه ولغيره وقال من استحل حراما قد علم في دين النبي - عليه الصلاة والسلام - تحريمه كنكاح المحارم فكافر. اهـ. قال شارحه المحقق ابن الغرس وهو التحقيق. وفائدة الخلاف تظهر في أكل مال الغير ظلما فإنه يكفر مستحله على أحد القولين. اهـ. وحاصله أن شرط الكفر على القول الأول شيئان: قطعية الدليل، وكونه حراما لعينه. وعلى الثاني يشترط الشرط الأول فقط وعلمت ترجيحه، وما في البزازية مبني عليه."

(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:293، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144408102144

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں