بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 جنوری 2021 ء

دارالافتاء

 

کسی چیز کا فرضی بل بنوا کر کمپنی سے رقم وصول کرنا


سوال

میں سعودیہ میں کام کرتا ہوں، کمپنی مجھے سالانہ یونیفارم دیتی ہے، جس کی مالیت لگ بھگ 60000 روپے بنتی ہے، میں چاہتا ہوں کہ نئے خریدنے کے بجائے میرا پرانے پر گزارا ہو سکتا ہے اور یہ رقم میں فرضی بل بنا کر لے سکتا ہوں، کیا یہ رقم میرے لیے حلال ہو گی؟

جواب

آپ جس کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں اگر اس کمپنی کی پالیسی یہ ہو کہ  وہ اپنے ملازمین کو سالانہ  یونیفارم مہیا کرتی ہے اور یونیفارم کا بل دکھانے کی صورت میں رقم ادا کرتی ہے اور یونیفارم نہ خریدنے کی صورت میں رقم نہیں دیتی تو ایسی صورت میں کسی ملازم کے لیے یہ جائز نہیں ہو گا  کہ وہ یونیفارم خریدے بغیر محض فرضی  بل کی بنیاد پر  کمپنی سے یونیفارم کے پیسے وصول کر لے؛ کیوں کہ اس میں  کمپنی کے ساتھ دھوکا دہی ہے اور دھوکا دینا سخت گناہ کا کام ہے۔

تاہم اگر کمپنی کی طرف سے یہ رقم بہرصورت ملتی ہو، یا کمپنی کے مجاز عہدیداران  کو حقیقی صورتِ حال  سے آگاہ کیا جائے، پھر وہ یونیفارم خریدے بغیر ہی   یونیفارم کے عوض رقم دے دیں تو یہ رقم لینا جائز ہو گا۔

ترمذی شریف میں ہے:

"عن أبي هریرة رضي اللّٰه عنه أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم قال: من غش فلیس منا".

(سنن الترمذي، باب ما جاء في کراهیة الغش في البیوع، ۱؍۲۴۵)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205201330

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں