بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ذو الحجة 1445ھ 16 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا معتکف دوسری مسجد میں نماز عشاء و تراویح پڑھانے کے لیے جا سکتا ہے جب کہ اعتکاف مسنون ہو؟


سوال

کیا معتکف دوسری مسجد میں نماز عشاء و تراویح پڑھانے کے لیے جا سکتا ہے جب کہ اعتکاف مسنون ہو؟

جواب

مسنون اعتکاف کے دوران  معتکف  دوسری مسجد   میں نماز عشاء اور تراویح پڑھانے کے لیے  نہیں جا سکتا،  تروایح پڑھانے کے  لیے نکلنے کی صورت  میں اعتکاف فاسد ہوجائے گا، اگر چہ معتکف نے اعتکاف میں بیٹھنے کے وقت تراویح پڑھانے کے  لیے نکلنے کی استثنا  کی ہو  ۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(وأما مفسداته) فمنها الخروج من المسجد فلا يخرج المعتكف من معتكفه ليلا ونهارا إلا بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى- كذا في المحيط. سواء كان الخروج عامدا أو ناسيا هكذا في فتاوى قاضي خان. ولا تخرج المرأة من مسجد بيتها إلى المنزل هكذا في محيط السرخسي، ولو كانت المرأة معتكفة في المسجد فطلقت لها أن ترجع إلى بيتها وتبني على اعتكافها، كذا في التبيين."

(الفتاوى الهندية: كتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف (1/ 212)،ط. رشيديه)

وفيه أيضًا:

"ولو شرط وقت النذر الالتزام أن يخرج إلى عيادة المريض وصلاة الجنازة وحضور مجلس العلم يجوز له ذلك، كذا في التتارخانية ناقلًا عن الحجة... هذا كله في الاعتكاف الواجب."

(الفتاوى الهندية: كتاب الصوم، الباب السابع في الاعتكاف (1/ 212)،ط. رشيديه)

فقط، واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201980

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں