بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کرایہ پر دی گئی دوکان میں گیمیں کھیلی جانے کی وجہ سے کرایہ کا حکم


سوال

میری ایک دوکان ہے ، دوکان میں گیم کھیلی جاتی ہے ، لیکن صرف مچھلی والی گیم ہے ، اس میں کسی قسم کی کوئی تصویر وغیرہ نہیں ہے ، اب کیا دوکان کا کرایہ میرے لیے حرام ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ گیم لہو و لعب میں داخل ہے ، اگر چہ اس میں مچھلی کے علاوہ کسی اور جاندار کی تصویر نہ ہو؛ اس لیے سائل کا گیم کھیلنے کے لیے مذکورہ جگہ کرایہ پر فراہم کرنا شرعاً درست نہیں ہے ، یہ گناہ کے کام میں تعاون ہے ؛ اس لیے اس سے حاصل ہونے والا کرایہ سائل کے لیے حلال طیب نہیں ہے ، لہذا اپنی دوکان خالی کراکر کسی جائز کام کرنے والے کو کرائے پر دے۔

 ارشادِ باری تعالی ہے:

"{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} ."[ المائدة:2]

"تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق"میں ہے:

"ولا تجوز الإجارة على شيء ‌من ‌الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو ولا على الحداء وقراءة الشعر ولا غيره ولا أجر في ذلك، وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد؛ لأنه معصية ولهو ولعب والاستئجار على المعاصي واللعب لا يجوز؛ لأنه منهي عنه."

(كتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، ج:5، ص:125، ط:دار الكتاب الإسلامي)

"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح" میں ہے:

"(قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من حسن إسلام المرء) أي: من جملة محاسن إسلام الشخص وكمال إيمانه (تركه ما لا يعنيه) ، أي: ما لا يهمه ولا يليق به قولا وفعلا ونظراوفكرا فحسن الإسلام عبارة عن كماله، وهو أن تستقيم نفسه في الإذعان لأوامر الله تعالى ونواهيه، والاستسلام لأحكامه على وفق قضائه وقدره فيه، وهو علامة شرح الصدر بنور الرب، ونزول السكينة على القلب، وحقيقة ما لا يعنيه ما لا يحتاج إليه في ضرورة دينه ودنياه، ولا ينفعه في مرضاة مولاه بأن يكون عيشه بدونه ممكنا، وهو في استقامة حاله بغيره متمكنا، وذلك يشمل الأفعال الزائدة والأقوال الفاضلة، فينبغي للمرء أن يشتغل بالأمور التي يكون بها صلاحه في نفسه في أمر زاده بإصلاح طرفي معاشه ومعاده، وبالسعي في الكمالات العلمية والفضائل العملية التي هي وسيلة إلى نيل السعادات الأبدية، والفوز بالنعم السرمدية، ولعل الحديث مقتبس من قوله تعالى: {وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ} [المؤمنون: 3]."

(كتاب الآداب، باب حفظ اللسان، رقم الحديث:4840، ج:7، ص:3040، ط:دارالفكر)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144501100983

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں