بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ذو القعدة 1445ھ 19 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کراما کاتبین کے نام اور ان کی کتابوں کے نام


سوال

کراما کاتبین کے نام اور ان کی کتابوں کے نام کیا ہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ فرشتوں میں سے ایک قسم ان فرشتوں کی ہے جن کے ذمے انسان کے اعمال (نیک و بد) لکھ کر محفوظ کرنے کا کام ہے، قرآنِ پاک میں ان فرشتوں کا نام تو مذکور نہیں ہے، البتہ ان کی صفت بیان کی گئی ہے کہ یہ فرشتے ’’کراما کاتبین‘‘ ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے دربار میں بڑے معزز فرشتے ہیں اور انسانوں کے اعمال لکھ کر محفوظ کرنے والے ہیں، یہ کوئی ایک دو فرشتے نہیں ہیں، بلکہ ہر انسان کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں، ظاہر ہے بے شمار ہوں گے، اور ان میں سے ہر ایک کا کیا نام ہوگا، یہ اللہ ہی کے علم میں ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے نام نہیں بتائے ہیں، کیوں کہ ہمارا کوئی دینی یا دنیاوی مسئلہ اس سے متعلق نہیں ہے، اس لیے ان فرشتوں کا نام جاننے کی فکر چھوڑ کر مقصد کے کام کرنا چاہیے،  اس حوالے سے جتنی بات ضروری تھی وہ "کرامًا کاتبین" کی صفت میں ہی آگئی کہ ہر انسان اس کی فکر کرے کہ اس کا عمل محفوظ ہورہاہے، اور کل قیامت کے دن اسے حساب دینا ہوگا،باقی روایات میں اگر دائیں اور بائیں کاندھے کے اعتبار سے کرامًا کاتبین فرشتوں کے نام یا مزید صفات آئی ہوں تو وہ ان کے نام نہیں ہیں، بلکہ ان کی  صفات ہیں،نیز یہ حق صحیفوں پر لکھتے ہیں ان کے کوئی مخصوص نام نہیں ۔

تفسير الطبري، جامع البيان  میں ہے:

"وقوله: (وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ) يقول: وإن عليكم رُقَباء حافظين يحفظون أعمالكم، ويُحْصونها عليكم (كِرَامًا كَاتِبِينَ) يقول: كرامًا على الله كاتبين يكتبون أعمالكم.وبنحو الذي قلنا في ذلك قال أهل التأويل.ذكر من قال ذلك :حدثني يعقوب ، قال: ثنا ابن علية، قال: قال بعض أصحابنا، عن أيوب، في قوله:(وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَافِظِينَ كِرَامًا كَاتِبِينَ) قال: يكتبون ما تقولون وما تَعْنُون.وقوله: (يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ) يقول: يعلم هؤلاء الحافظون ما تفعلون من خير أو شرّ، يحصون ذلك عليكم."

‌‌(سورة الانفطار،ج:24،ص:181،ط:دار هجر)

عالم الملائكة الأبرار میں ہے:

''يذكر بعض العلماء أن ‌من ‌الملائكة ‌من ‌اسمه ‌رقيب ‌وعتيد، استدلالاً بقوله تعالى: (إذ يتلقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عن اليمين وعن الشمال قعيدٌ - مَّا يلفظ من قولٍ إلَاّ لديه رقيب عتيدٌ).وما ذكروه غير صحيح، فالرقيب والعتيد هنا وصفان للملكين اللذين يسجلان أعمال العباد، ومعنى رقيب وعتيد؛ أي: ملكان حاضران شاهدان، لا يغيبان عن العبد، وليس المراد أنهما اسمان للملكين.''

(‌‌الفصل الأول ،صفاتهم وقدراتهم،أسماء الملائكة ، ص:18،ط:مكتبة الفلاح، الكويت)

تفسير ابن كثير میں ہے:

"قال معمر: وتلا الحسن البصري {‌عن ‌اليمين ‌وعن ‌الشمال ‌قعيد} يا ابن آدم، بسطت لك صحيفتك ووكل بك ملكان كريمان، أحدهما عن يمينك والآخر عن يسارك فأما الذي عن يمينك فيحفظ حسناتك، وأما الذي عن يسارك فيحفظ سيئاتك، فاعمل ما شئت، أقلل أو أكثر، حتى إذا مت طويت صحيفتك فجعلت في عنقك معك في قبرك، حتى تخرج يوم القيامة كتابا تلقاه منشورا {اقرأ كتابك كفى بنفسك اليوم عليك حسيبا} قد عدل -والله-عليك من جعلك حسيب نفسك."

(سورة الإسراء ،ج:5،ص:52،ط:دار طيبة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411102535

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں