بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ذو الحجة 1443ھ 04 جولائی 2022 ء

دارالافتاء

 

کراما کاتبین نامۂ اعمال کس چیز پر لکھتے ہیں؟


سوال

کراماً کاتبین نامۂ اعمال کس چیز پر لکھتے ہیں ؟

جواب

قرآن و حدیث میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ  کراماً کاتبین وہ  فرشتے ہیں جن کے ذمے انسان کے اعمال (نیک و بد) لکھ کر محفوظ کرنے کا کام ہے،اور ان کے پاس ایک کتاب ہے جس میں وہ انسانوں کے اعمال لکھتے ہیں،اس کتاب کی کیا صفت ہے  یہ اللہ ہی کے علم میں  ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس کی صفت نہیں بتائی ، کیوں کہ ہمارا کوئی دینی یا دنیاوی مفاد اس سے متعلق نہیں ہے، اس لیےاس کتاب کی صفت  جاننے کی فکر چھوڑ کر ان امور پر توجہ دی جانی چاہیے جو اس کتاب میں درج کیے جارہے ہیں ، ہر انسان اس کی فکر کرے کہ اس کا ہر  عمل محفوظ ہورہاہے، اور کل قیامت کے دن اسےان اعمال کا حساب دینا ہوگا۔ 

تفسیر روح المعانی میں ہے:

"ومن يكتب الأعمال ملكان كاتب الحسنات وهو في المشهور على العاتق الأيمن وكاتب ما سواها وهو على العاتق الأيسر والأول أمين على الثاني فلا يمكنه من كتابة السيئة الأبعد مضى ست ساعات من غير مكفر لها ويكتبان كل شيء حتى الاعتقاد والعزم والتقرير وحتى الأنين في المرض وكذا يكتبان حسنات الصبي على الصحيح....وورد في بعض الآثار ما يدل على أن بعض الحسنات ما يكتبها غير هذين الملكين والظواهر تدل على أن الكتب حقيقي وعلم الآلة وما يكتب فيه مفوض إلى الله عز وجل."

(سورۃ الانفطار،اٰیۃ:11،ج:22،ص:251،ط:مکتبۃ الشاملۃ)

تفسیر قرطبی میں ہے:

"قال الحسن : يقرأ الإنسان كتابه أميا أو غير أمي كفى بنفسك اليوم عليك حسيبا أي محاسبا وقال بعض الصلحاء : هذا كتاب لسانك قلمه وريقك مداده وأعضاؤك قرطاسه إن كنت المملي على حفظتك ما زيد في ولا نقص منه ومتى أنكرت منه شيئا يكون فيه الشاهد منك عليك".

(سورۃ الاسراء:14،ج:10،ص:210،مکتبہ شاملہ)  

تفسیر قرطبی میں ہے:

"وقال : { وأما من أوتي كتابه بشماله } [ الحاقة : 25 ] وقال : { وأما من أوتي كتابه وراء ظهره } [ الانشقاق : 10 ] فأخبر أن الكفار يكون لهم كتاب ويكون عليهم حفظة فإن قيل : الذي على يمينه أي شيء يكتب ولا حسنة له ؟ قيل له : الذي يكتب عن شماله يكون بإذن صاحبه ويكون شاهدا على ذلك وإن لم يكتب والله أعلم".

(سورۃ الانفطار:آیۃ:12،ج:19،ص:215،ط:مکتبۃ الشاملہ) 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144308100801

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں