بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 محرم 1446ھ 13 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کن صورتوں میں روزہ توڑنا جائز ہے؟


سوال

روزہ کن کن صورتوں اور مجبوریوں میں توڑا جا سکتا ہے جس سے قضا تو لازم آتی ہو لیکن کفارہ نہیں؟

جواب

  1. روزہ دار اچانک ایسا بیمار ہوگیا کہ اگر روزہ نہ توڑے گا تو موت کا خطرہ ہے یا بیماری بڑھ جائے گی تو روزہ توڑ دینا بہتر ہے ۔ مثلاً اچانک پیٹ میں شدید درد شروع ہوگیا، برداشت سے باہر ہوگیا، دوا لینا ضروری ہے یا سانپ اور بچھو وغیرہ نے کاٹ لیا تو ایسی صورت میں دوا پی لینا اور روزہ توڑ دینا درست ہے۔اس صورت میں قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔
  2. اگر کسی روزہ دار کو سخت پیاس لگی اگر پانی نہیں پئیے گا ہلاکت کا ڈر ہے تو ہلاکت سے بچنے کے لیے پانی پی کر روزہ توڑ دینا جائز ہے۔اس صورت میں قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔
  3. حاملہ عورت کو کوئی ایسی بات پیش آگئی کہ اس سے اپنی جان یا بچے کی جان کا ڈر ہے تو روزہ توڑنا نہ صرف جائز ہے بلکہ بہتر ہے۔اس صورت میں قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔
  4. کھانا وغیرہ پکانے کی وجہ سے بے حد پیاس لگی اور اتنا زیادہ بے تاب ہوگیا کہ جان کا خوف ہے تو روزہ توڑ دینا جائز ہے،اس صورت میں قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔ لیکن اگر روزہ دار نے خود قصداً اتنا کام کیا جس سے ایسی حالت ہوگئی تو گناہ گار ہوگا۔

(ماخوذ از روزے کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا، عنوان: روزہ توڑنا کب جائز ہوتا ہے: 98، 99، ط: بیت العمار کراچی)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: لمن خاف زيادة ‌المرض ‌الفطر) لقوله تعالى "فمن كان منكم مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخر" فإنه أباح الفطر لكل مريض لكن القطع بأن شرعية الفطر فيه إنما هو لدفع الحرج وتحقق الحرج منوط بزيادة المرض أو إبطاء البرء أو إفساد عضو۔"

(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، فصل في عوارض الفطر في رمضان: 2/ 281، ط: سعید)

وفیہ ایضا:

"(قوله: ‌وللحامل ‌والمرضع إذا خافتا على الولد أو النفس) أي لهما الفطر دفعا للحرج ولقوله صلى الله عليه وسلم "إن الله وضع عن المسافر الصوم وشطر الصلاة وعن الحامل والمرضع الصوم"۔

(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، فصل في عوارض الفطر في رمضان: 2/ 285، ط: سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(ومنها ‌العطش ‌والجوع كذلك) إذا خيف منهما الهلاك أو نقصان العقل۔"

(كتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار: 1/ 207، ط: ماجديه)

فتاوی شامی میں ہے:

"لا يجوز أن يعمل عملا يصل به إلى الضعف فيخبز نصف النهار ويستريح الباقي، فإن قال لا يكفيني كذب بأقصر أيام الشتاء، فإن أجهد الحر نفسه بالعمل حتى مرض فأفطر ففي كفارته قولان۔"

(‌‌كتاب الصوم‌‌، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده: 2/ 420، ط: سعید)

وفيه ايضا:

"قال الشرنبلالي صورته: ‌صائم ‌أتعب نفسه في عمل حتى أجهده العطش فأفطر لزمته الكفارة، وقيل لا وبه أفتى البقالي۔"

(‌‌كتاب الصوم‌‌، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده: 2/ 420، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101860

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں