بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کن مقامات پر تلاوتِ قرآنِ کریم بلند آواز سے نہیں کرنی چاہیے؟


سوال

طالب علم کے مطالعہ والی جگہ کے پاس بلند آواز سے قرآن تلاوت کرنے کا حکم کیا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ نماز  کے دوران تلاوت کو  اور خطبہ خواہ وہ جمعہ کا ہو یا کوئی اور ہو  اسے  کان لگاکر سننا، اور اس دوران خاموش رہنا  واجب ہے، البتہ نماز اور خطبہ کے علاوہ عام حالات میں کوئی شخص بطورِ خود تلاوت کر رہا ہے تو دوسروں کو خاموش رہ کر اس پر کان لگانا واجب ہے یا نہیں، اس میں فقہاء کے اقوال مختلف ہیں، بعض حضرات نے اس صورت میں بھی کان لگانے اور خاموش رہنے کو واجب اور اس کے خلاف کرنے کو گناہ قرار دیا ہے، لیکن بعض دوسرے فقہاء نے یہ تفصیل فرمائی ہے کہ کان لگانا اور سننا صرف ان جگہوں میں واجب ہے جہاں قرآن کو سنانے ہی کے لیے پڑھا جارہا ہو، جیسے نماز و خطبہ وغیرہ میں،  اور اگر کوئی شخص بطورِ خود تلاوت کر رہا ہے یا چند آدمی کسی ایک مکان میں اپنی تلاوت کر رہے ہیں تو دوسرے کی آواز پر کان لگانا اور خاموش رہنا واجب نہیں، لیکن اولی اور بہتر سب کے نزدیک یہی ہے کہ خارجِ نماز بھی جب کہیں سے تلاوت قرآن کی آواز آئے تو اس پر کان لگائے اور خاموش رہے، اسی لیے ایسے مواقع میں جہاں لوگ اپنے کام کاج میں مشغول ہوں تلاوتِ قرآن بآواز بلند کرنا مناسب نہیں۔(مستفاد از معارف القرآن)

حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ عثمانی رحمہ اللہ ’’جدید آلات کے شرعی احکام‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں:

"یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآنِ کریم جب اس میں (ٹیپ ریکارڈ میں) پڑھنا جائز ہے تو اس کا سننا بھی جائز ہے، شرط یہ ہے کہ ایسی مجلسوں میں نہ سناجائے جہاں لوگ اپنے کاروبار یا دوسرے مشاغل میں لگے ہوں، یاسننے کی طرف متوجہ نہ ہوں،  ورنہ بجائے ثواب کے گناہ ہوگا ۔"

(آلاتِ  جدیدہ کے شرعی احکام،ٹیپ ریکارڈ پر تلاوت قرآن کا حکم،ص:207،ادارۃ المعارف)

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جس جگہ کوئی طالبِ علم مطالعہ میں مصروف ہو تو اس جگہ بلند آواز سے تلاوت نہ کرنا بہتر ہے، تاکہ طالبِ علم کے قرآن کی طرف بے توجہی کی وجہ سے بے ادبی لازم نہ آئے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101673

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں