بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 ذو الحجة 1445ھ 13 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کن کن لوگوں پر قربانی واجب ہے اور کن کن پر واجب نہیں؟


سوال

کن کن لوگوں پر قربانی واجب ہے اور کن کن پر واجب نہیں ؟

جواب

قربانی ہر اس عاقل بالغ مقیم مسلمان مرد اور عورت پر واجب ہے جو نصاب کا مالک ہو یا اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد اتنا سامان ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو۔ 

یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو، یا رہائش کے مکان سے زائد مکانات یا جائیدادیں وغیرہ ہوں یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو یا مال تجارت، شیئرز وغیرہ ہوں تو اس پر ایک حصہ قربانی کرنا لازم ہے۔

قرنی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال، رقم یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گذرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں ہے، ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کا سورج غروب ہونے سے پہلے مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے۔

قربانی کے تین دنوں میں آخری دن بھی کسی صورت سے نصاب کے برابر مال یا ضرورت سے زائد سامان کا مالک ہوجائے تو اس پر قربانی واجب ہے۔

جس کے پاس رہائش کے مکان کے علاوہ زائد مکان موجود ہے، خواہ تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو، ضروری مکان کے لیے پلاٹ ہیں، ضروری سواری کے علاوہ دوسری گاڑیاں ہیں تو یہ شخص قربانی کے حق میں صاحب نصاب ہے، اس پر قربانی واجب ہے۔

تجارتی سامان خواہ کوئی بھی چیز ہو اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے تو اس کے مالک پر قربانی واجب ہوگی اور جو شخص مذکورہ تفصیل کے مطابق صاحب نصاب نہ ہو اس پر قربانی واجب نہیں ، شرعی مسافر پر بھی قربانی واجب نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

" وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر).

(قوله: واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضاً يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية، ولو له عقار يستغله فقيل: تلزم لو قيمته نصاباً، وقيل: لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل: قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفاً، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم."

(كتاب الأضحیة،6/ 312، ط: سعید)

 الفتاوى الهندية   میں ہے:

1. "ولا يشترط أن يكون غنيا في ‌جميع ‌الوقت حتى لو كان فقيرا في أول الوقت، ثم أيسر في آخره تجب عليه." (5/ 292)

2. "وفي الأجناس رجل به زمانة اشترى حمارا يركبه ويسعى في حوائجه وقيمته مائتا درهم فلا أضحية، ولو كان له دار فيها بيتان شتوي وصيفي وفرش شتوي وصيفي لم يكن بها غنيا، فإن كان له فيها ثلاثة بيوت وقيمة الثالث مائتا درهم فعليه الأضحية وكذا في الفرش الثالث." (5/ 293)

(كتاب الأضحیة،الباب الأول في تفسير الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144411100260

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں