بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 صفر 1443ھ 19 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کن دنوں میں روزہ رکھنا جائز نہیں ہے؟


سوال

روزہ کن ایام میں رکھنا ممنوع ہے ؟

جواب

سال میں پانچ دن روزہ رکھنا شرعاً منع ہے، ایک  عید الفطر کا دن یعنی یکم شوال اورچار دن ذوالحجہ کے مہینے میں ہیں،دس ذوالحجہ سے لے کر تیرہ ذوالحجہ تک لگاتار چار دن۔

صحیح البخاری میں ہے:

"1990 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى ابْنِ أَزْهَرَ، قَالَ: شَهِدْتُ العِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " هَذَانِ يَوْمَانِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا: يَوْمُ فِطْرِكُمْ مِنْ صِيَامِكُمْ، وَاليَوْمُ الآخَرُ تَأْكُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُكِكُمْ."

( كتاب الصوم، باب صوم يوم الفطر، 3 / 42، ط: دار طوق النجاة)

سنن أبي داؤد میں ہے:

"2418 - "حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ، أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَلَى أَبِيهِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَقَرَّبَ إِلَيْهِمَا طَعَامًا، فَقَالَ: كُلْ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عَمْرٌو: كُلْ، «فَهَذِهِ الْأَيَّامُ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِإِفْطَارِهَا، وَيَنْهَانَا عَنْ صِيَامِهَا»، قَالَ مَالِكٌ: «وَهِيَ أَيَّامُ التَّشْرِيقِ»".

( كتاب الصوم، بَابُ صِيَامِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ، 2 / 320)

 بدائع الصنائع میں ہے:

"أَمَّا الصِّيَامُ فِي الْأَيَّامِ الْمَكْرُوهَةِ فَمِنْهَا: صَوْمُ يَوْمَيْ الْعِيدِ، وَأَيَّامِ التَّشْرِيقِ. "

( كتاب الصوم، فصل انواع الصيام، فصل شرائط انواع الصيام، 2 / 78، ط: دار الكتب العلمية)

  فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144212200569

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں