بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کن اوقات میں تلاوت مناسب نہیں/ تلاوت کے دوران اذان کے جواب دینے کا حکم


سوال

1۔کن اوقات  میں قرآن پڑھنا مناسب نہیں ہوتا؟

2۔اذان کے وقت قرآن پڑھنا کیسا ہے؟

جواب

1۔       جب اورجس وقت  چاہے  تلاوت کرنے کی  اجازت ہے ،  البتہ جنابت کی حالت میں،بیت الخلاء میں، بے لباس ہونے کی حالت میں، امام کی اقتدا میں، خطبہ جمعہ کے دوران سامعین کے لیے جائز نہیں ہے۔  باقی   کسی وقت تلاوت کرنے کی پابندی نہیں  ہے۔

2۔تلاوت جاری ہو اور اذان ہونے لگے تو دونوں صورتیں جائز ہیں، چاہے تلاوت جاری رکھے چاہے بند کر کے اذان کا جواب دے،البتہ افضل اور مستحب  یہی ہے  کہ تلاوت کو موقوف کرکے اذان کا جواب دے؛ اس لیے کہ تلاوت بعد میں دوبارہ ہوسکتی ہے، مگر اذان کے جواب  کا موقع پھر نہیں ملے گا،اور اگر پہلے سے تلاوت شروع نہ کی ہو اور اذان شروع ہوجائے تو اذان کا جواب دینا چاہیے، اذان مکمل ہونے کے بعد تلاوت شروع کی جائے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و) يحرم به (تلاوة القرآن...(قوله: تلاوة القرآن) أي ولو بعد المضمضة كما يأتي".

(ج:1، ص: 76، ط:سعید)

 فتاوی رحیمیہ میں  حضرت مولانا مفتی عبدالرحیم لاجپوری رحمۃ اللہ علیہ     لکھتے  ہیں :

"اثناء تلاوت اذان شروع ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
قرآن کریم کی تلاوت کر رہا ہو اور اس اثنا  میں اذان شروع ہوجائے  تو تلاوت کرتا رہے یا اذان کا جواب دے ؟  بینوا توجروا۔
(الجواب)مسجد میں ہوتو تلاوت جاری رکھنے کی اجازت ہے۔ مکان میں ہو تو تلاوت موقوف کر کے اذان کا جواب دینا چاہیے، البتہ دوسرے محلہ کی مسجد کی اذان ہو تو مکان میں بھی تلاوت جاری رکھنے میں مضائقہ نہیں ہے۔

(ج:4، ص:99، سوال نمبر:132، ط:دارالاشاعت اردوبازار)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144505101815

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں