بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 صفر 1444ھ 26 ستمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا زیمل اور منحہ نام رکھ سکتے ہیں؟


سوال

"زیمل" نام رکھنا کیسا ہے ؟،"منحا" نام کا مطلب کیا ہے؟ یہ دنوں نام رکھ سکتے ہیں؟

جواب

یہ لفظ اصل میں ’’زمل‘‘ ہے نہ کہ ’’زیمل‘‘ عربی لغت کے اعتبار سے اس لفظ کے معنی نام رکھنے کے لیے درست نہیں ہیں، یہ لفظ زا کے زیر، میم کے سکون کے ساتھ، بوجھ، کم زور، سست، کم تر کے معنی میں ہے،مذکورہ لفظ" منحا"  کا درست تلفظ یوں ہے:"مِنْحَه"(میم کے زیر، نون کے سکون اور حاء کے زبر کے ساتھ)  کا معنی عطیہ ہے،اور یہ نام رکھ سکتے ہیں ،  لیکن زیادہ اچھا یہ ہے کہ بچیوں  کے نام ازواجِ مطہرات اور صحابیات رضی اللہ عنہن کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھاجائے،اور بچوں کے نام انبیاء کرام علیہم السلام اور صحابہ   رضی اللہ عنھم کے ناموں میں سے کسی کے نام پر  یا کم از کم اچھے معنی والا عربی نام رکھا جائے۔

في تاج العروس:

"والزمل بالكسر: الحمل وفي حديث أبي الدرداء : إن فقدتموني لتفقدن زملا عظيما يريد حملا عظيما من العلم". 

(فصل الزاي المعجمه،ز م ل ،ج:29،ص:141،ط:وزارة الإرشاد والأنباء في الكويت)

في لسان العرب:
"والزمل: الكسلان. والزمل والزمل والزميل والزميلة والزمال: بمعنى الضعيف الجبان الرذل؛ قال أحيحة:
ولا وأبيك ما يغني غنائي، ... من الفتيان، زميل كسول.
 والزمل: الحمل. وفي حديث أبي الدرداء: لئن فقدتموني لتفقدن زملا عظيما؛ الزمل: الحمل، يريد حملًا عظيمًا من العلم؛ ... و الزمل عند العرب: الحمل، و ازدمل افتعل منه، أصله ازتمله، فلما جاءت التاء بعد الزاي جعلت دالا ".

(فصل الزای المعجمه،ز م ل،ج:11،ص:311،ط:دار الانشاء کویت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144311102084

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں