بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو الحجة 1445ھ 21 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا ذکر کی طاقت سے غیب کا علم حاصل ہوسکتا ہے؟


سوال

فضائل اعمال میں فضائل ذکر کے باب میں ایک واقعہ مذکور ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ کچھ ذکر کرنے والے صوفیاء نے باہر سے آنے والے شخص کو یہ بتایا کہ اس آنے والے شخص نے خواب میں یہ دیکھا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے؟

کیا ذکر کی وجہ سے واقعی یہ طاقت حاصل ہوجاتی ہے ؟

کیا غیر اللہ کو غیب کا علم ہو سکتا ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں ذکرکردہ واقعہ کو اس لحاظ سے ناقابلِ فہم کہنا درست ہوسکتا ہے کہ ایسے واقعات عادت اور معمول کے خلاف ہیں، مگر ان کے امکان کو محال کہنا درست نہیں ہے؛ کیوں کہ ایسے واقعات خلافِ عادت اور خرقِ عادت کہلاتے ہیں، ایسے واقعات کا ظہور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ اور کسی اللہ والے کی کرامات کا مظہر ہوتا ہے، اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کے مطابق کراماتِ اولیاء کا ظہور بر حق ہے؛ کیوں کہ اسے بھی قادرِ مطلق کی قدرت کا ایک مظہر ماناجاتا ہے،لہذا یہ ممکن ہے۔ تاہم  یہ غیب کا علم نہیں ہے،  یہ کرامت اور کشف ہے،اور یہ بندہ کے اختیار میں نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ کی اپنی مرضی سے جب بھی چاہے کسی کے  ہاتھ سے ظاہر کر دے، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

من عاش بعد الموت لابن أبي الدنيامیں  ہے:

"حدثنا عبد الله ، قال: حدثني محمد بن الحسين، قال: حدثنا محمد بن جعفر بن عون، قال: أخبرني بكر بن محمد العابد، عن الحارث الغنوي، قال: آلى ‌ربيع ‌بن ‌حراش ألا، تفتر أسنانه ضاحكا حتى يعلم أين مصيره؟ قال: فما ضحك إلا بعد موته، قال: وآلى أخوه ربعي بعده أن لا يضحك حتى يعلم أفي الجنة هو أم في النار؟ قال الحارث الغنوي: «فلقد أخبرني غاسله أنه‌‌ لم يزل متبسما على سريره ونحن نغسله حتى فرغنا منه»."

(ص: 22، ط:دار الکتب العلمية)

تفسیرِ قرطبی میں ہے:

"‌كرامات ‌الأولياء ثابتة، على ما دلت عليه الأخبار الثابتة، والآيات المتواترة ولا ينكرها إلا المبتدع الجاحد، أو الفاسق الحائد، فالآيات ما أخبر الله تعالى في حق مريم من ظهور الفواكه الشتوية في الصيف، والصيفية في الشتاء."

(سورة الكهف: آيت: 77-78، ج:11، ص:28، ط:‌دار الكتب المصرية)

شرح النووی علیٰ مسلم میں ہے:

"و منها إثبات ‌كرامات ‌الأولياء و هو مذهب أهل السنة خلافا للمعتزلة و فيه أن ‌كرامات ‌الأولياء قد تقع باختيارهم و طلبهم و هذا هو الصحيح عند أصحابنا المتكلمين و منهم من قال: لاتقع باختيارهم و طلبهم و فيه أن الكرامات قد تكون بخوارق العادات على جميع أنواعها و منعه بعضهم و ادعى أنها تختص بمثل إجابة دعاء و نحوه و هذا غلط من قائله و إنكار للحس بل الصواب جريانها بقلب الأعيان و إحضار الشيء من العدم و نحوه."

(كتاب البر والصلة والآداب، باب تقديم الوالدين على التطوع بالصلاة وغيرها، ج:16، ص:108، ط:دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144509101293

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں