بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کیا وطنِ اصلی دو ہو سکتے ہیں؟


سوال

میرا وطنِ اصلی دادو ہے،  میرے والد،بھائی، ذاتی زمین اور کاروبار دادو میں ہے، لیکن میری بیوی بچے حیدرآباد میں رہتے ہیں اور حیدرآباد میں بھی اپنا ذاتی مکان ہے، اور میں کبھی حیدرآباد میں رہتا ہوں بچوں کے ساتھ،  اور میں خود کبھی دادو میں رہتا ہوں کاروبار کے لیے، کبھی پندرہ دن کبھی پندرہ دن سے کم عرصہ، دادو اور حیدرآباد کے درمیان 200 کلومیٹر کا فیصلہ ہے، دادو ارو حیدرآباد میرے لیے دونوں وطن ہوں گے یا ان میں سے ایک وطن ہوگا؟ اور کہاں پوری نماز پڑھنی پڑے گی اور کہاں قصر کرنی پڑے گی؟

جواب

واضح رہے کہ جس وطن میں انسان کی ولادت ہو اور وہ اُسے بالکلیہ چھوڑ کر منتقل نہ ہوا ہو،  یا جہاں اس نے شادی کرکے رہنے کی نیت کر لی ہو یا کسی جگہ مستقل رہنے کی نیت کر لی ہو تو یہ جگہ وطن اصلی بن جاتی ہے، اس تعریف کی رو سےاگر کسی شخص کی دو یا دوسے زیادہ جگہوں پر عمر گزارنے   کی نیت ہو  کہ کبھی ایک جگہ کبھی دوسری جگہ ،لیکن ان سے مستقل کوچ نہیں کرنا  تو یہ ساری جگہیں اس کے لیے وطن ِاصلی ہی کے حکم میں ہوں گی۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر دادو میں آپ کی ذاتی زمین اور کاروبار ہے اور بیوی بچوں کی رہائش حیدرآباد میں ہے تو  یہ دونوں شہر آپ کے لیے وطنِ اصلی ہوں گے اور دونوں جگہ آپ مقیم رہیں گے اور نماز مکمل پڑھیں گے، اگرچہ  پندرہ دن سے کم قیام کی نیت ہو۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 132):

"(قوله: والأصل أن الشيء يبطل بمثله) كما يبطل الوطن الأصلي بالوطن الأصلي، و وطن الإقامة بوطن الإقامة، و وطن السكنى بوطن السكنى".

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 103):

" ثم الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحدًا أو أكثر من ذلك بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر ولم يكن من نية أهله الخروج منها، وإن كان هو ينتقل من أهل إلى أهل في السنة، حتى أنه لو خرج مسافرا من بلدة فيها أهله ودخل في أي بلدة من البلاد التي فيها أهله فيصير مقيما من غير نية الإقامة."

(کتاب الصلاۃ، فصل بيان ما يصير المسافر به مقيمّا،ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144205201562

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں