بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 محرم 1446ھ 19 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا سجدے کے لیے ہموار زمین ضروری ہے؟


سوال

پوچھنا یہ تھا کہ ہمارا تبلیغی جوڑ ہوتا ہے پنڈال میں ،وہ کھلا میدان ہے ،جہاں پر نماز بھی پڑھتے ہیں ۔ وہاں کی زمین ہموار نہیں ہوتی ۔ اس میں کھڈےہوتے ہیں، یعنی  کہ ایک لیول پر نہیں ہوتی  تھوڑی  سی اوپر نیچے ہوتی ہے، تو یہاں نماز کا کیا حکم ہے ؟ اس کو ٹھیک بھی کیا جاتا ہے، لیکن اکثر جگہ خراب ہوتی ہے۔

جواب

واضح رہے کہ سجدہ میں پیشانی اور ناک کا اکثر حصہ  پاک زمین پر یا کسی بھی ایسی پاک چیز پر جس سے زمین کی سختی معلوم ہوتی ہو رکھناواجب ہے۔ باقی  زمین کا ہموارہونا صحت سجدہ کے لیے ضروری نہیں ،البتہ   اختیار میں ہوتے ہوئے ایسے نہ کرنا خلافِ  سنت ضرور ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔

سوال میں مذکورہ صورت کاحکم یہ ہے کہ حتی الامکان ہموارزمین  کی تلاش کرے یا نماز سے پہلے ہی سجدے کی جگہ برابرکرے لیکن  اگرممکن کوشش کے باوجود ہموارجگہ میسرنہ ہو تونمازبلاکراہت درست ہے۔

فتا وی ٰشامی  میں ہے:

"(وقلب الحصا) للنهي (إلا لسجوده) التام فيرخص (مرة) وتركها أولى۔۔۔«عن أبي ذر رضي الله عنه: سألت النبي صلى الله عليه وسلم عن كل شيء حتى سألته عن مسح الحصى، فقال واحدة أو دع» وروى الستة عن معيقيب أنه عليه الصلاة والسلام قال «لا تمسح الحصى وأنت تصلي، فإن كنت ولا بد فاعلا فواحدة»شرح المنية. وفی الردالمحتارتحت قولہ( إلا لسجوده التام) بأن كان لا يمكنه تمكين جبهته على وجه السنة إلا بذلك، وقيد بالتام لأنه لو كان لا يمكنه وضع القدر الواجب من الجبهة إلا به تعين ولو أكثر من مرة. مطلب إذا تردد الحكم بين سنة وبدعة كان ترك السنة أولى۔۔۔قولہ(وتركها أولى) لأنه إذا تردد الحكم بين سنة وبدعة كان ترك السنة راجحا على فعل البدعة مع أنه كان يمكنه التسوية قبل الشروع في الصلاة".

 (كتاب الصلوة۔فروع: مشي المصلي مستقبل القبلة هل تفسد صلاته۔ ج:1، ص:641،ط: دارالفكر القاهرة)

البحرالرائق میں ہے:

"فالحاصل أن التسوية لغرض صحيح مرة هل هي رخصة أو عزيمة وقد تعارض فيها جهتان فبالنظر إلى أن التسوية مقتضية للسجود على الوجه المسنون كانت التسوية عزيمة وبالنظر إلى أن تركها أقرب إلى الخشوع كان تركها عزيمة والظاهر من الأحاديث الثاني ويرجحه أن الحكم إذا تردد بين سنة وبدعة كان ترك البدعة راجحا على فعل السنة مع أنه قد كان ‌يمكنه ‌التسوية ‌قبل ‌الشروع في الصلاة".

(كتاب الصلاة، فصل: العبث بالثوب والبدن في الصلوة۔ج:2ص:21، ط: دار الكتاب الاسلامي)

بدائع الصنائع ميں ہے:

"وترك ‌السنة لا يفسد الصلاة ولكن يوجب الكراهة".

( باب الاستخلاف، ج:1، ص:237، ط: دارالكتب العلمية بيروت)

المحیط البرہانی میں ہے:

"قال الفقيه أبو الليث رحمه الله: من ‌ترك ‌السنّة بعذر، فهو معذور في تركه".

(كتاب الصلوةفي الترويح والوتر۔ج:1ص:467،ط:دارالكتب العلمية بيروت)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144508101430

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں