بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا شہنشاہ کوروش اعظم حضرت ذوالقرنین تھے؟


سوال

1۔ کیا شہنشاہ کوروش اعظم حضرت ذوالقرنین تھے؟ میں نے ایک کتاب میں یہ بات پڑھی، حوالہ مولانا آزاد کی کتاب ترجمان القرآن کا تھا۔

2۔  زردشت کون تھے؟

3۔ نسب کے لیے کون سی کتاب کو معتبر مانا جائے، عام تاریخی کتب یا تاریخ فرشتہ کو ؟

جواب

1- واضح رہے کہ شہنشاہ کوروش اعظم کو کوروش  یا کورش یا سائرس اور  اس کے علاوہ اس کومختلف زبانوں میں مختلف ناموں سےیاد کیا جاتاہے،یہ ایک مشرک بادشاہ تھا،لہذایہ شہنشاہ  کوروش یا سائرس وہ ذوالقرنین نہیں ہو سکتا جن کا ذکر قرآن کریم کی  سورۃ کہف میں ہے،اسی طرح ذوالقرنین کے نام سے بھی بہت سارے بادشاہ گزرے ہیں،اورجس ذوالقرنین کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہےعلماء سلف و خلف کے نزدیک بالاتفاق وہ مسلمان اور  نیک بادشاہ تھے،البتہ مولانا ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ تعالی نے جو تحقیق پیش  کی  ہے کہ ذوالقرنین اور سائرس ایک آدمی ہے، اس کو بعض اَکابرین  نے  تسلیم کیا ہے، لیکن  یہ تاریخی روایات پر مبنی باتیں ہیں، لہذااس  بارے میں کوئی حتمی اور قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، البتہ   جو حضرات سائرس کو "ذو القرنین" مانتے ہیں، ان  کے نزدیک   سائرس مشرک نہیں  ہوگا۔

  2-   زرتشت یازردشت قدیم پارسی مذہب کے پیشوا ،اور آتش پرست تھے ،دو خداؤں "اہرمن"اور "یزدان" کے ماننے والےتھے،"مجوس "کے مختلف ناموں میں سے ایک  نام  "زرتشت"ہے،یہ چھٹی صدی عیسوی  کا مذہب ہے، ان لوگوں کی مقدس کتاب"اَوَستَا"ہے،عناصرِ اربعہ یعنی آگ،پانی ،ہوا اور مٹی کو خدا مانتے ہیں ،جب کہ آگ کو خالقِ اعظم اور کائنات کی روح سمجھ کر اپنے منتر وغیرہ پڑھ کر اس کی پرستش کرتے ہیں ،ان لوگوں کے نزدیک ایمان کی اصل حقیقت"مخلوق کی خدمت کرنا،علم حاصل کرنا،کھلی فضاء میں رہنا اور پاک صاف رہنا ہے"، اور غیروں میں شادی کرنا ان کے مذہب میں ممنوع ہے۔

مزید تفصیل کے لیےاس موضوع پرمستند تاریخی  کتب کا مطالعہ فرمائیں۔

3- نسب  معلوم کرنے کےلئے مستقل  ایک علم کی بنیاد رکھی گئی ،جس کانام علم الانساب   ہے،علم الانساب وہ علم ہے جس میں کسی فرد یا افراد کے نسب کی معرفت حاصل کی جاتی ہے ، اس علم کے بھی دیگر علوم کی طرح اپنے قواعد و ضوابط ،اصول و شرائط ، اصطلاحات اور رموز و اوقاف ہیں ،جن کے بغیر اس کی صحیح معرفت ممکن نہیں ،یہ علم اہل عرب سے مخصوص ہے، جس طرح فلسفہ و منطق اہل یونان ،طب اہل روم ،آداب نفس و اخلاق اہل فارس، علم الصنائع اہل چین اور نجوم و حساب اہل ہند سے مخصوص ہیں،علم الانساب اہل عرب کے مخصوص علوم میں سے ہے، اور عرب میں اس پر باقاعدہ ہر دور میں کام ہوا ،غیر عرب اپنے نسب کو محفوظ نہیں رکھتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے نسب آپس میں ایک دوسرے سے مخلوط ہو گئے، اور وہ دوسرے نسبوں سے ملحق ہو گئے،حالانکہ وہ اس نسب سے نہ تھے،اس کے مقابلہ میں اہل عرب نے اپنے نسب کی حفاظت کی ،تاکہ باہرکاکوئی فرد   ان میں داخل نہ  ہو سکے، اور نہ اپنا کوئی فرد خاندان سے خارج ہو سکے، جس کی وجہ سے ان کا نسب محفوظ، اور شک و شبہ سے پاک رہا، علم الانساب میں بہت کتابیں لکھی گئیں،جن میں سےچند معتبر کتابیں  درج ذیل ہیں:

1۔ أنساب حمیر وملوکھا  لابن ہشام(المتوفی:213ھ)۔

 2۔أنساب الأشراف للبلاذری(المتوفی :279ھ)۔

3۔ اقتباس الأنوار والتماس الأزھار فی أنساب  الصحابة ورواۃ الآثارللرشاطی الاندلسی(المتوفی:542ھ)۔

4۔ الأنساب للسمعانی (المتوفی:562ھ)۔

البدایۃ والنہایۃ میں ہے:

وذكر ابن جرير أن لهراسب كان ملكا عادلا سائسا لمملكته قد دانت له العباد والبلاد والملوك والقواد وأنه كان ذا رأي جيد في عمارة الأمصار والأنهار والمعاقل.ثم لما ضعف عن تدبير المملكة بعد مائة سنة ونيف نزل عن الملك لولده بشتاسب فكان في زمانه ظهور دين المجوسية وذلك أن رجلا كان اسمه ‌زردشت كان قد صحب أرميا عليه السلام فأغضبه فدعا عليه أرميا فبرص ‌زردشت فذهب فلحق بأرض أذربيجان وصحب بشتاسب فلقنه دين المجوسية الذي اخترعه من تلقاء نفسه فقبله منه بشتاسب وحمل الناس عليه وقهرهم وقتل منهم خلقا كثير ممن أباه منهم.ثم كان بعد يشتاسب بهمن بن بشتاسب وهو من ملوك الفرس المشهورين والأبطال المذكورين وقد ناب بخت نصر لكل واحد من هؤلاء الثلاثة وعمر دهرا طويلا قبحه الله. والمقصود أن هذا الذي ذكره ابن جرير من أن هذا المار على هذه القرية هو أرميا عليه السلام. قال (2) وهب بن منبه وعبد الله بن عبيد بن عمير وغيرهما وهو قوي من حيث السباق المتقدم وقد روي عن علي وعبد الله بن سلام وابن عباس والحسن وقتاة والسدي وسليمان بن بريدة وغيرهم أنه عزير.وهذا أشهر عند كثير من السلف والخلف والله أعلم.

(باب ذكر جماعة من انبياء بني اسرائيل بعد داود وسليمان، وهذه قصة العزير، ج:2 ص:51 ط: دار الاحیا العربی التراث)

وفیہ ایضاً:

"‌فأما ‌ذو ‌القرنين ‌الثاني فهو إسكندر بن فيليبس بن مضريم بن هرمس بن هردس بن ميطون بن رومي بن لنطي بن يونان بن يافث بن نونة بن سرحون بن رومة بن ثرنط بن توفيل بن رومي بن الأصفر بن اليفز بن العيص بن إسحاق بن إبراهيم الخليل. كذا نسبه الحافظ ابن عساكر في " تاريخه " المقدوني اليوناني المصري، باني إسكندرية، الذي يؤرخ بأيامه الروم، وكان متأخرا عن الأول بدهر طويل، كان هذا قبل المسيح بنحو من ثلاثمائة سنة، وكان أرسطاطاليس الفيلسوف وزيره، وهو الذي قتل دارا بن دارا، وأذل ملوك الفرس وأوطأ أرضهم. وإنما نبهنا عليه ; لأن كثيرا من الناس يعتقد أنهما واحد، وأن المذكور في القرآن هو الذي كان أرسطاطاليس وزيره، فيقع بسبب ذلك خطأ كبير وفساد عريض طويل كثير، فإن الأول كان عبدا مؤمنا صالحا وملكا عادلا، وكان وزيره الخضر، وقد كان نبيا على ما قررناه قبل هذا. وأما الثاني، فكان مشركا، وكان وزيره فيلسوفا، وقد كان بين زمانيهما أزيد من ألفي سنة. فأين هذا من هذا، لا يستويان ولا يشتبهان، إلا على غبي لا يعرف حقائق الأمور."

(كتاب أخبار الماضين من بني إسرائيل وغيرهم، خبر ذي القرنين، ج:2 ص: 542 ط: دار عالم الکتب)

معارف القرآن میں ہے:

"ذو القر نین کے معاملہ میں یہ عجیب اتفاق ہے کہ اس نام سے دنیا میں متعدد آدمی مشہور ہوئے  ہیں،اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ ہر زمانے کے ذی القرنین کے ساتھ لقب سکندر بھی شامل ہے، حضر ت مسیح علیہ السلام سے تقریباً تین سو سال پہلے ایک بادشاہ سکندر کے نام سے معروف ومشہور ہے، جس کو سکندر یونانی ، مقدونی ، رومی وغیرہ کے القاب سے یاد کیا جاتا ہے ، جس کا وزیر ارسطو تھا، اور جس کی جنگ دارا سے ہوئی، اور اسے قتل کر کے اس کا ملک فتح کیا، سکندر کے نام سے دنیا میں معروف ہونے والا آخری شخص یہی تھا، اسی کے قصے دنیا میں زیادہ مشہور ہیں، بعض لوگوں نے اس کو بھی قرآن میں مذکور ذوالقرنین کہہ دیا، یہ سراسر غلط ہے، کیونکہ یہ شخص آتش پرست مشرک تھا، قرآن کریم نے جس ذوالقرنین کا ذکر کیا ہے ، ان کے نبی ہونے میں تو علماء کا اختلاف ہے، مگر مومن صالح ہونے پر سب کا اتفاق ہے، اور خود قرآن کی نصوص اس پر شاہد ہیں ۔

اور مولانا حفظ الرحمن صاحب نے اپنی کتاب قصص القر آن میں جوذ والقر نین کے متعلق بڑی تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ذوالقرنین مذکور فی القرآن فارس کا وہ بادشاہ ہے، جس کو یہودی خورس، یونانی سائرس، فارسی گورش اور عرب کیخسروکہتے ہیں، جس کا زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بہت بعد انبیاء بنی اسرائیل میں سے دانیال علیہ السلام کا زمانہ بتلایا جاتا ہے، جو سکندر مقدونی قاتل دارا کے زمانے کے قریب قریب ہو جاتا ہے ، مگر مولانا موصوف نے بھی ابن کثیر وغیرہ کی طرح اس کا شدت سے انکار کیا ہے کہ ذوالقر نین وہ سکندر مقدونی جس کا وزیر ارسطو تھا، وہ نہیں ہو سکتا ، وہ مشرک آتش پرست تھا، یہ مومن صالح تھے ۔"

(سورۃ کہف،ج:5 ص:616 ط:ادارۃ المعارف کراچی)

قصص القرآن میں ہے:

بعض حضرات کو یہ سخت مغالطہ ہو گیا ہے کہ سکندر مقدونی ہی وہ ذوالقرنین ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ کہف میں کیا گیا ہے، یہ قول باتفاق جمہور علمائے سلف و خلف قطعاً باطل اور جہالت پر مبنی ہے۔ اس لیے کہ قرآن کی تصریحات کے مطابق ذوالقرنین صاحب ایمان اور مرد صالح بادشاہ تھا، اور سکندر مقدونی مشرک اور جابر بادشاہ گزرا ہے جس کے شرک و ظلم کی صحیح تاریخ خود اس کے بعض امرائے دربار نے بھی مرتب کی ہے، اور تمام معاصرانہ شہادتیں بھی اس کے بت پرست اور جابر و ظالم ہونے پر متفق ہیں......مگر ان سب اقوال سے جدا مولانا ابوالکلام نے اس سلسلہ میں جو تحقیق فرمائی ہے، البتہ وہ ضرور قابل توجہ ہے، بلکہ دلائل و براہین کی قوت کے لحاظ سےیہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ ان کی تحقیق بلاشبہ صحیح اور قرآن کے بیان کردہ اوصاف اور تاریخی حقائق کی مطابقت کے پیش نظر ہرطرح لایق ترجیح ہے.....

(ذوالقرنین، ج:2 ص:100،107،117 ط:دار الاشاعت)

پوری تفصیل کے لیے قصص القرآن مولاناحفظ الرحمن سیوہاروی رحمہ کی تفسیر ملاحظہ فرمائے۔

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144501100269

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں