بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 شوال 1441ھ- 02 جون 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا ساس کو زکاۃ دی جاسکتی ہے؟


سوال

کیا اپنی ساس کو  زکاۃ دے سکتے ہیں؟

 

جواب

واضح رہے کہ اپنے اصول (والدین، دادا، نانا وغیرہ) وفروع (اولاد، ان کی نسل) کو  اور اسی طرح میاں بیوی کا ایک دوسرے کو زکاۃ  دینا جائز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ دیگر  نسبی اور سسرالی رشتہ دار اگر مستحقِ زکاۃ ہوں تو  ان کو زکاۃ دینا جائز ہے، لہذ ا ساس اگر زکاۃ  کی مستحق ہو تو اسے زکاۃ دینا درست ہے۔

سوال میں اگر ساس سے مراد شوہر کی والدہ ہو تو انہیں مستحقِ زکاۃ ہونے کی صورت میں زکاۃ دینا تو جائز ہے، لیکن خرچہ مشترک ہونے کی صورت میں انہیں بتادیا جائے کہ یہ رقم اجتماعی خرچہ میں شامل نہ کریں، تاکہ زکاۃ دینے والی بہو کو اپنی ہی زکاۃ کے فوائد نہ لوٹ جائیں۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144108200184

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے