بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غیب کا علم ملا تھا؟


سوال

کیا نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غیب کا علم ملا تھا؟

جواب

اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

کفایت المفتی میں ہے:

"علمِ غیب حضرت حق تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کو حق تعالیٰ نے اس قدر مغیبات کا علم عطا فرمادیا تھا کہ ہم اس کا  احصار نہیں کرسکتے۔ اور ہمارا عقیدہ ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا علم حضرتِ  حق تعالیٰ کے بعد سب سے زیادہ  ہے، مگر باوجود اس کے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہ  تھے؛ کیوں کہ علمِ غیب کے معنی یہ ہیں کہ وہ بغیر واسطہ حواس اور  بغیر کسی کے بتائے ہوئے حاصل ہو  اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا تمام علم حضرتِ  حق  تعالیٰ  کے بتانے سے حاصل ہوا ہے۔  وہ حقیقتًا علمِ غیب ہے اور  نہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب کہنا درست۔"

(کتاب العقائد، جلد:1، صفحہ: 165، طبع: دار الاشاعت)

لہذا اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی نے وہ علوم عطا فرمائے تھے  جو کسی کو نہیں دیے گئے ۔لیکن اس کے باوجود  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عالم الغیب ہونا یعنی کہ بذات خود  بلاواسطہ تمام معلومات کا علم ہونا  لازم نہیں آتا۔

النبراس میں ہے:

"والتحقیق أن الغیب ما غاب عن الحواس، والعلم الضروري ، والعلم الاستدلالی،  وقد نطق القرآن بنفي علمه عمن سواہ تعالیٰ ...  وأما ما علم بحاسة، أو ضرورۃ، أو دلیل، فلیس بغیب، ...  و بھٰذا التحقیق اندفع الإشکال في الأمور اللتي یزعم أنھا من الغیب، ولیست منھا،  لکونھا مدرکةً بالسمع أو البصر، أو الضرورۃ، أو الدلیل،  فأحدها أخبار الأنبیاء، لأنھا مستفاد من الوحي، و من خلق العلم الضروري فیھم، أو من انکشاف الکوائن علی حواسھم."

(النبراس، العلامة محمد عبد العزیز الفرهاري، ص:343، ط: تھانوی- دیوبند)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144412100140

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں