بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شعبان 1445ھ 27 فروری 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا قرآن کریم وآ حدیث مبارکہ سے توسل ثابت ہے؟


سوال

 کیا اللہ پاک کی بارگاہ میں وسیلہ واسطہ دینا قرآن و حدیث سے ثابت ہے؟

جواب

اللہ پاک کی بار گاہ میں توسل (وسیلہ، واسطہ دینے)کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں:

1) توسل بالاعمال: یعنی اپنے کسی نیک عمل کے وسیلے سے یوں دعا کرنا کہ اے اللہ! فلاں عمل کی برکت سے میری فلاں حاجت پوری فرما، یہ صورت بالاتفاق وبلااختلاف جائز ہے ۔

2) توسل بالذوات: یعنی اللہ سے کسی نبی علیہ السلام، صحابی رضی اللہ عنہ یا کسی ولی سے اپنے تعلق کا واسطہ دے کر دعا کرنا، یہ صورت بھی جمہور اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک جائز ہے، چناچہ قرآن کریم کی آیت سے ثابت ہے کہ بنوقریظہ اور بنونضیر کے یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے آپ کے وسیلے سے فتح ونصرت کی دعا کیا کرتے تھے،خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فقرا ومہاجرین کے توسل سے دعا فرماتے تھےاورحضرت عمر رضی اللہ عنہ قحط سالی کے سال حضرت عباس رضی اللہ عنہ (جو اس وقت حیات تھے) کے وسیلے سے دعا فرماتے تھے۔

نیز رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک نابینا شخص آیا اور اس نے اپنی تکلیف کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے اسے اہتمام سے وضو کرکے دو رکعت پڑھنے کے ساتھ  اپنے وسیلے سے دعا کرنے کے الفاظ تلقین فرمائے، چناں چہ اسی مجلس میں اس کی بینائی لوٹ آئی۔

بہرحال انبیاء، اولیاء یا نیک اعمال کے توسل سے دعا کرنا جائز بلکہ اجابتِ دعا میں موٴثر ہے، دعا میں توسل کا ثبوت متعدد احادیث سے ہے۔

البتہ کسی نبی یا ولی سے حاجت مانگنا شرک ہے۔

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کے جواب کا حاصل یہ ہوا کہ توسل بالاعمال اور توسل بالذوات دونوں  جائز ہیں، قرآنِ کریم واحادیثِ مبارکہ (اور کتبِ فقہ )میں اس کی تصریحات موجود ہیں تاہم دعا کی قبولیت کے لیے وسیلہ واجب یا ضروری نہیں، توسل کا انکار کیے بغیر بلاوسیلہ دعا مانگنا بھی جائز ہے، اور توسل والی دعا کی قبولیت کا اللہ کے ذمے لازم سمجھنا بھی درست نہیں ہے.

روح المعانی للألوسی میں ہے:

"وكانوا ‌من ‌قبل ‌يستفتحون على الذين كفروا نزلت في بني قريظة والنضير كانوا يستفتحون على الأوس والخزرج برسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم قبل مبعثه- قاله ابن عباس رضي الله تعالى عنهما وقتادة- والمعنى يطلبون من الله تعالى أن ينصرهم به على المشركين، كما روى السدي أنهم كانوا إذا اشتد الحرب بينهم وبين المشركين أخرجوا التوراة ووضعوا أيديهم على موضع ذكر النبي صلى الله تعالى عليه وسلم وقالوا: اللهم إنا نسألك بحق نبيك الذي وعدتنا أن تبعثه في آخر الزمان أن تنصرنا اليوم على عدونا فينصرون."

( ج:١، ص:٣١٩، ط:دار الكتب العلمية  بيروت)

مرقاۃ المفاتیح لملا علی قاری میں ہے:

"وعن أنس - رضي الله عنه - أن عمر بن الخطاب - رضي الله عنه - كان إذا قحطوا استسقى بالعباس بن عبد المطلب فقال:اللهم إنا كنا نتوسل إليك بنبينا فتسقينا، وإنا نتوسل إليك بعم نبينا فاسقنا، قال: فيسقون،قال ابن حجر: واستسقى معاوية بيزيد بن الأسود فقال: اللهم إنا نستسقي بخيرنا وأفضلنا، اللهم إنا نستسقي بيزيد بن الأسود، يا يزيد: ارفع يديك إلى الله، فرفع يديه ورفع الناس أيديهم، فثارت سحابة من المغرب كأنها ترس، وهبت ريح فسقوا حتى كاد الناس لا يبلغون منازلهم."

(كتاب الصلاة، باب الاستسقاء،الفصل الثالث،  ج:٣، ص:١١١٣، ط:دار الفكر بيروت)

وفیہ ایضاً:

"عن عثمان بن حنيف - رضي الله عنه - قال: إن رجلا ضرير البصر أتى النبي فقال: ادع الله أن يعافيني فقال إن شئت دعوت، وإن شئت صبرت فهو خير لك ، قال: فادعه. قال: فأمره أن يتوضأ فيحسن الوضوء ويدعو بهذا الدعاء: اللهم إني أسألك وأتوجه إليك بنبيك محمد نبي الرحمة، إني توجهت بك إلى ربي ليقضي لي في حاجتي هذه، اللهم فشفعه لي."

(كتاب أسماءالله تعالي، باب جامع الدعاء،الفصل الثالث، ج:٥، ص:١٧٣٠، ط:دارالفكر بيروت)

تحفۃ الاحوذی شرح جامع ترمذی میں ہے:

"وأخرجه النسائي وزاد في آخره فرجع وقد كشف الله عن بصره وأخرجه أيضا بن ماجه وبن خزيمة في صحيحه والحاكم وقال صحيح على شرط الشيخين وزاد فيه فدعا بهذا الدعاء فقام وقد أبصر وأخرجه الطبراني."

(کتاب الدعوات، باب في انتظار الفرج وغير ذلك، ج:١٠، ص:٢٤، ط:دارالكتب العلمية بيروت)

فتاوی شامی میں ہے:

"وقد عد من آداب الدعاء التوسل."

(كتاب الحظروالإباحة، فصل في البيع، ج:٦، ص:٣٩٧، ط:سعيد)

روح المعانی للألوسی میں ہے:

"أن الناس قد ‌أكثروا ‌من ‌دعاء غير الله تعالى من الأولياء الأحياء منهم والأمواتوغيرهم، مثل يا سيدي فلان أغثني، وليس ذلك من التوسل المباح في شيء."

(ج:٣، ص:٢٩٧، ط:دارالكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144410101372

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں