بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا قزع کی صورت اپنانے پر اللہ اور اسکے رسول کی لعنت ہے ؟


سوال

کیا قزع کی صورت اپنانے پر اللہ اور اس کے رسول کی لعنت ہے ؟حوالہ بھی عنایت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ سر کے بالوں کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ یا تو  سر کے پورے بال رکھے جائیں یا پورے کاٹے جائیں، سر کے کچھ بال کاٹنا اور کچھ چھوڑدینا منع ہے، اسے حدیث میں ’’قزع‘‘ سے تعبیر کرکے اس کی ممانعت کی گئی ہے،البتہ صراحۃ ً لعنت کی کوئی روایت نہیں ہے  اور "قزع"  کی مختلف صورتیں ہیں، حاصل ان کا یہی ہے کہ سر کے بال کہیں سے کاٹے جائیں اور کہیں سے چھوڑدیے جائیں،نيز  اس سے کفار اور فساق کی مشابہت بھی  لازم آتی ہے، جو کہ ممنوع ہے۔

البتہ  سر کے بالوں کی تحدید کے لیے گدی سے بال کاٹے جائیں یا حلق کیا جائے تو  یہ اس ممانعت میں داخل نہیں ہے، اسی طرح کان کے اطراف کے بال جو کان پر لگ رہے ہوں، انہیں برابر کرنے کے لیے اطراف سے معمولی بال کاٹ لینا جیسا کہ عام طور پر اس کا معمول ہے کہ سر  کے بالوں کو متعین کرنے اور اس کو دوسرے سے جدا کرنے کے لیے  کان کے اوپر بلیڈ لگاتے ہیں تو اس کی گنجائش ہے۔  تاہم یہ خیال رہے کہ زیادہ اوپر سے بلیڈ نہ لگایا جائے ورنہ ”قزع“ میں داخل ہوگا۔

 سنن ابی داؤد  میں ہے:

"عن ابن عمر: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- رأى صبيا قد حلق بعض شعره، وترك بعضه، فنهاهم عن ذلك، وقال: احلقوا كله أو اتركوا كله."

(کتاب الترجل، باب في الذؤابة،ج:6،ص:261،ط:الرسالة العالمیة)

ترجمہ:" حضرت عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نےایک بچہ کو دیکھا کہ اس کے سر کے بعض حصے کے بال مونڈے ہوئے اور بعض حصے میں بال چھوڑ دیے گئے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اس سے منع فرمایا ،اور  ارشاد فرمایا کہ  ؛"(اگر بال مونڈنا ہو تو) پورے سر کے بال مونڈو ( اور اگر بال رکھنے ہوں تو) پورے سر پر بال رکھو۔"

بذل المجھود میں ہے:

"عن ابن عمر: أن النبي - صلى الله عليه وسلم - نهى عن القزع) ثم فسر ذلك (وهو أن يحلق رأس الصبي، ويترك له) من شعره (ذؤابة). قلت: وليس هذا مختصا بالصبي، بل إذا فعله كبير يكره (3) له ذلك، فذكر الصبي باعتبار العادة الغالبة."

(كتاب الترجل، باب في الصبي له ذؤابة،ج:12،ص:220،ط:مركز الشيخ أبي الحسن الندوي للبحوث والدراسات الإسلامية،الهند)

رد المحتار میں ہے:

"(قوله وأما حلق رأسه إلخ) وفي الروضة للزندويستي أن السنة في شعر الرأس إما ‌الفرق أو ‌الحلق. وذكر الطحاوي: أن ‌الحلق سنة، ونسب ذلك إلى العلماء الثلاثة...قال ط: ويكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعا مقدار ثلاثة أصابع كذا في الغرائب، وفيها: كان بعض السلف يترك سباليه وهما أطراف الشوارب."

(كتاب الحظروالإباحة،ج:6، ص:407، ط: سعيد)

مشکوۃ المصابیح  ميں ہے :

"وعن نافع عن ابن عمر قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ينهى عن القزع. قيل لنافع: ما القزع؟ قال: يحلق بعض رأس الصبي ويترك البعض  وألحق بعضهم التفسير بالحديث."

(كتاب اللباس،باب الترجل،الفصل الأول،ج:2،ص:1262،رقم الحديث:4426،ط: المكتب الإسلامي بيروت)

ترجمہ:"حضرت نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو  ’’قزع‘‘سے منع فرماتے ہوئے سنا، حضرت نافع سے پوچھا گیا کہ قزع کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا (قزع اس کو کہتے ہیں کہ ) لڑکے کے سر کے بعض حصہ کو مونڈا جائے اور بعض حصے کو چھوڑ دیا جائے ۔ (بخاری ومسلم ) اور بعض راویوں نے وضاحت کو حدیث کے ساتھ جوڑا ہے یعنی راوی کے مطابق، قزع کے یہ معنی آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی نے بیان فرمائے۔"

مظاهر حق ميں ہے  :

"نوویؒ کہتے ہیں کہ قزع کے معنی مطلق (کسی کے بھی ) سر کے کچھ حصے کو مونڈنا (اور کچھ حصے کو بغیر مونڈے چھوڑ دینا ہیں ) اور یہی معنی زیادہ صحیح ہیں؛ کیوں کہ حدیث کے روای نے بھی یہی معنی بیان کیے ہیں،  اور یہ حدیث کے ظاہری مفہوم کے مخالف بھی نہیں ہیں،  لہٰذا اسی معنی پر اعتماد کرنا واجب ہے!  جہاں تک " لڑکے " کی تخصیص کا ذکر ہے تو یہ محض عام رواج و عادات کی بنا پر ہے، ورنہ قزع جس طرح لڑکے کے حق میں مکروہ ہے، اس طرح بڑوں کے حق میں بھی مکروہ ہے، اسی لیے فقہی روایات میں یہ مسئلہ کسی قید و استثنا  کے بغیر بیان کیا جاتا ہے اور قزع میں کراہت اس اہلِ  کفر کی مشابہت اور بد ہئیتی سے بچانے کے لیے ہے ،راوی نے " قزع " کا جو مطلب بیان کیا ہے اور جس کو نووی نے زیادہ صحیح کہا ہے، اس میں چوٹی (جیسا کہ غیر مسلم اپنے سر چھوڑتے ہیں ) (زلف اور بالوں کی ) وہ تراش خراش شامل ہے جو مسنون طرز کے خلاف ہو۔"

 في  الفتاوى الهندية:

"يكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعا مقدار ثلاثة أصابع كذا في الغرائب. وعن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - يكره أن يحلق قفاه إلا عند الحجامة، كذا في الينابيع."

 (الباب التاسع عشر في الختان والخصاء وحلق المرأة شعرها ووصلها شعر غيرها،ج:5،ص:357،ط:دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144404101645

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں