بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو القعدة 1445ھ 27 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کان کے مسح کا استیعاب سنت ہے یا نہیں؟


سوال

 وضو میں کانوں پرمسح کرنا سنت ہے؛لیکن کیا کان کے مسح میں استیعاب ضروری ہے؟اور یہ سوال اس لیے ہے چوں کہ خواتین عموماً کان میں بالیاں اور ایئررنگ وغیرہ لگاتی ہیں،جس سے کان کا کچھ حصہ چھپ جاتا ہے،اور مسح میں اس پر ہاتھ نہیں پھرتا،اگر استیعاب ضروری ہو تو کان کا مسح نہیں ہوگا،اور خواتین مستقلاً اس سنت سے محروم رہیں گی؛لہٰذا آپ حضرات سے درخواست ہے فقہی عبارتوں سے کانوں کی حد بتاتے ہوئے مذکورہ مسئلہ سے متعلق حکم شرعی مدلل و مفصل واضح کریں کہ بندہ ایک طالب علم ہے،اس مسئلے کو دلیل سے سمجھنا چاہتا ہے۔

جواب

کتبِ فقہ  میں مذکور ہے کہ کانوں کے ظاہری اور باطنی حصے کا سر کے مسح کے بچے ہوئے پانی سے مسح کرنا سنت ہے، کانوں کے مسح میں استیعاب کی شرط عموماً کتب فقہ و حدیث میں نہیں ملتی تاہم بعض مقامات پر پورے کان کے مسح کا ذکر ہے، مثلاً تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

"قال - رحمه الله - (ومسح كل رأسه مرة وأذنيه بمائه) أي ومسح كل أذنيه بماء الرأس؛ لأنه معطوف على الرأس وتكلموا في كيفية المسح".

(كتاب الطهارة، 1/ 5، ط: المطبعة الكبرى الأميرية)

تاہم کانوں کے مسح کا استیعاب مسح الأذنين کی سنت ادا کرنے کے لیے اس طور پر ضروری نہیں ہےکہ اگر کان کا بال برابر حصہ اگر مسح سے رہ گیا تو یہ سنت فوت ہو جائے گی، لہذا اگر خواتین کانوں سے بالیاں وغیرہ اتارے بغیر کان کا مسح کرتی ہیں تو مسح الأذنين  کی سنت سے محروم نہیں ہوں گی۔  المغنی لابن قدامہ میں حضرت امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کا قول منقول ہے کہ مجھے امید ہے کہ مسح راس کے معاملہ میں عورت کے لیے سہولت اور نرمی ہے۔

المغنی لابن قدامہ میں ہے:

"وقال مهنا: قال أحمد: أرجو أن تكون المرأة في مسح الرأس أسهل. قلت له: ولم؟ قال: كانت عائشة تمسح مقدم رأسها".

(كتاب الطهارة، باب فرض الطهارة، مسألة: قال: ومسح الرأس، 1/ 93، ط: مكتبة القاهرة)

بدائع الصنائع میں ہے: 

"(ومنها) : أن يمسح الأذنين ظاهرهما، وباطنهما بماء الرأس".

(كتاب الطهارة، فصل:وأما آداب الوضوء، مطلب مسح الأذنين، 1/ 23، ط: سعيد)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ويمسح ظاهر الأذنين بباطن الإبهامين وباطن الأذنين بباطن السبابتين. كذا في السراج الوهاج".

(كتاب الطهارة، الباب الأول في الوضوء، الفصل الثاني في سنن الوضوء، 1/ 7، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144507101471

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں