بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ربیع الاول 1443ھ 25 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

كيا رسول اللهﷺ سے ننگے سر نماز پڑهنا ثابت ہے؟


سوال

کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز بغیر احرام ننگے سر پڑھی ہےیا پڑھائی ہے؟

جواب

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے  احرام کی حالت کے سوا بغیر ٹوپی کے نماز ادا کرنا ثابت نہیں،  اس لیےکاہلی، سستی اور لاپرواہی کی بنا پر ٹوپی کے بغیر ننگے سر نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے، البتہ اگر کبھی ٹوپی ساتھ نہ ہو  اور فوری طور پر کسی جگہ سے میسر بھی نہ ہوسکتی ہو تو اس صورت میں ننگے سر نماز پڑھنے کی وجہ سے کراہت نہیں ہوگی۔

علامہ زاہد  کوثری رحمہ اللہ  لکھتے ہیں:

"وأما صلاة المصلي و هو حاسر الرأس من غير عذر فصحيحة إذا كانت مستجمعةً للشروط و الأركان، لكنها خلاف السنة المتوارثة، و العمل المتوارث في كل بقعة من بقاع المسلمين على توالي القرون ... والحاصل: أنه لم يثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه صلى حاسر الرأس من غير عذر حتى نقتدي به صلى الله عليه وسلم في كشف الرأس في الصلاة."

(مقالات الإمام الكوثري، (ص:170)،ط. دارشمسي كراتشي)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144207200639

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں