بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا ناحق زیادہ لی جانے والی رقم سود کے حکم میں داخل ہے؟


سوال

ہر وہ رقم جو اپنی اصلی حالت سے زیادہ وصول کی جائے،  چاہے کسی صورت میں تو وہ  سود کے زمرہ میں آتی ہے؟

جواب

قرآنِ کریم میں ’’ربوا‘‘کو حرام قراردیاگیاہے، اس کا ترجمہ اردومیں ’’سود‘‘سے کیاجاتاہے، مگر’’ربوا‘‘ عام مفہوم رکھتاہے اور مروجہ سود بھی اسی کا ایک فرد اور ایک صورت ہے۔

"ربوا" کی دو قسمیں ہیں : 

(1)    ربا   الفضل:   وہ   زیادتی جو عقدِ  معاوضہ   میں کیلی  (ناپ کر بیچی جانے والی) اور وزنی  (تول کر بیچی جانے والی) چیزوں میں متعاقدین میں سے کسی ایک کے لیے  مشروط ہو۔

(2)   ربا النسیئہ:  یعنی وہ زیادتی جو مدت کے مقابلہ میں وصول کی جائے۔  اس کی تفصیل یہ ہے کہ :

 سود کی دو علتیں  ہیں: ایک "جنس" اور دوسری "قدر"، مثلًا دو ایسی  چیزیں  جن کی اصل الگ الگ  ہو  (جیسے گائے کا گوشت اور بکرے کا گوشت)، یا ان کا مقصود الگ الگ ہو  (جیسے گندم کا دانا اور اس کا آٹا)  وہ الگ جنس شمار ہوں گی،   اور ’’قدر‘‘  سے مراد مخصوص شرعی پیمانہ (کیل یا وزن) ہے جس سے اشیاء کو ناپا یا تولا جاتا ہو، اور شرعًا کم ازکم جو پیمانہ معتبر ہے  وہ نصف صاع (تقریبًا پونے دو کلو) ہے،  اب جنس اورقدر کا حاصل یہ ہوا کہ ربا کی علت "کیل مع الجنس" ہے، یعنی وہ دونوں چیزیں کیلی بھی ہوں (یعنی ناپ کر بیچی جاتی ہوں) اور ان کی جنس بھی ایک ہو۔ اور "وزن مع الجنس" ہے، یعنی وہ دونوں چیزیں وزن کرکے بیچی جاتی ہوں اور ان کی جنس بھی ایک ہو۔ 

اب ایک جنس یا ایک قدر والی اشیاء کی باہم خرید و فروخت کی مختلف صورتیں ہوسکتی ہیں:

                       1- دو ایسی چیزیں  جن کی  جنس  ایک ہو   اور وہ  قدر (کیلی ہونے یا وزنی ہونے ) میں بھی متحد ہوں  تو خرید وفروخت میں ان کا برابر ہونا اور دونوں جانب سے نقد ہونا  ضروری ہے، یعنی جس مجلس میں خرید وفروخت ہو اسی میں جانبین سے قبضہ بھی پایا جائے۔

مذکورہ صورت میں (یعنی جنس اور قدر ایک ہونے کی صورت میں)  اگر کوئی چیز ایک جانب سے زیادہ ہو اور دوسری جانب سے کم ہو تو یہ سود ہے، اسے اصطلاح میں "ربو الفضل"یا "ربو التفاضل"   کہا جاتا ہے، یعنی کمی زیادتی کی وجہ سے سود ہے۔

اسی طرح  جنس اور  قدر ایک ہونے  کی صورت  میں اگر ایک طرف سے نقد اور دوسری طرف سے ادھار  ہو تو یہ بھی سود ہے، اسے اصطلاح میں "ربو النسیئة"  کہتے ہیں، یعنی ادھار ہونے کی وجہ سے سود ہے ۔

                        2-  اگر دونوں کی جنس ایک ہو،  لیکن قدر  (کیلی ہونے یا وزنی ہونے میں) الگ الگ ہو، یا  جنس الگ الگ ہو، لیکن قدر ایک ہو  تو انہیں کمی بیشی  کے ساتھ  خرید  و فروخت کیا جاسکتا ہے،  لیکن ایک طرف سے نقد اور  دوسری طرف  سے ادھار  جائز نہیں  ہے، یعنی اس صورت میں  کمی بیشی  جائز ہے، اور اُدھار حرام ہے۔

                  3- اگر جنس اور قدر دونوں مختلف ہوں تو کمی بیشی بھی جائز ہے اور ادھار بھی جائز ہے۔

نیز قرآنِ کریم ،سنتِ نبویہ اور آثارِ صحابہ اوراجماعِ امت نے قرض پرطے کرکے لی جانے والی ہرزیادتی کو ’’ربوا‘‘قراردیاہے۔

اسی طرح  جتنے  مالی معاملات شرعًا فاسد  ہیں، ان  سے  حاصل ہونے والے  منافع   بھی  سود کے حکم میں شامل ہیں۔

الهداية شرح البداية - (3 / 48):

"و كل شرط لايقتضيه العقد و فيه منفعة لأحد المتعاقدين أو للمعقود عليه و هو من أهل الاستحقاق يفسده كشرط أن لايبيع المشتري العبد المبيع؛ لأن فيه زيادة عارية عن العوض فيؤدي إلى الربا أو لأنه يقع بسببه المنازعة فيعري العقد عن مقصوده."

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر - (3 / 90):

"ولو كان البيع بشرط لايقتضيه العقد وفي نفع لأحد المتعاقدين أي البائع والمشتري أو  لمبيع يستحق النفع بأن يكون آدميًّا فهو أي هذا البيع فاسد لما فيه من زيادة عرية عن العوض فيكون ربا وكل عقد شرط فيه الربا يكون فاسدًا."

 تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو:(جواہرالفقہ،از:مفتی اعظم پاکستان محمدشفیعؒ-4/533،ط:دارالعلوم کراچی)۔(فتاویٰ بینات،از:جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن-4/9،ط:مکتبہ بینات)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144212202345

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں