بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 ذو الحجة 1445ھ 12 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا مشت زنی کے بعد غسل فرض ہے؟


سوال

مشت زنی کے بعد غسل فرض ہے؟

جواب

واضح رہے کہ  مشت زنی کرنا ناجائز اور گناہ  کا کام ہے،قرآن و  احادیث میں اس فعلِ بد  پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں اور اس فعلِ بد  کے نتیجے میں  اگر انزال ہوجائے تو غسل فرض ہوجائے گا۔

  ارشاد باری تعالیٰ ہے :

{وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ}(المؤمنون:5-8)

ترجمہ:   اور جو اپنی شہوت کی جگہ کو تھامتے ہیں، مگر اپنی عورتوں پر یا اپنے ہاتھ کے مال باندیوں پر، سو ان پر نہیں کچھ الزام۔ پھر جو کوئی ڈھونڈے اس کے سوا سو وہی ہیں حد سے بڑھنے والے۔ (بیان القرآن)

في حاشية ابن عابدين:

"مطلب في حكم ‌الاستمناء ‌بالكف (قوله: وكذا ‌الاستمناء ‌بالكف) أي في كونه لا يفسد لكن هذا إذا لم ينزل أما إذا أنزل فعليه القضاء۔۔۔۔۔لمافي الزيلعي حيث استدل على عدم حله بالكف بقوله تعالى:{والذين هم لفروجهم حافظون} [المؤمنون: 5] الآية وقال فلم يبح الاستمتاع إلا بهما أي بالزوجة والأمة اهـ فأفاد عدم حل الاستمتاع أي قضاء الشهوة بغيرهما هذا ما ظهر لي والله سبحانه أعلم."

(مطلب في حكم الإستمناء بالكف،ج:2،ص:399،ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144407102403

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں