بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا کسی جانور کو بیمار کے گرد سات بار گھما کر ذبح کرنے سے بیماری دور ہوجاتی ہے؟


سوال

 کیا بھیڑ،  بکری یا مرغی کو کسی بیمار شخص یا تندرست شخص کے گرد سات بار گھما کر ذبح کرنےسے  اس بیمار  شخص کی جو تکلیف ہے اس سے وہ دور ہوجاتی ہے یا  تندرست آدمی سے  بیماری  ٹل جاتی  ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ ایک حدیث شریف میں بیماریوں کا علاج صدقہ سے کرنے کی ترغیب آئی ہے ،صدقہ کرنے سے بیماری اور مصبیت دور اور ٹل جاتی ہے ،لہذا صورتِ میں بیمار کے گرد جانور گھماکر ذبح کر نے میں عوام کا یہ اعتقاد ہوتا ہے کہ بیمار کے سرانے میں اردگر گھماکر ذبح کر نےسے بیماری دورہوجاتی ہے ،یعنی بعض عوام کا یہ عقیدہ ہوتا ہے کہ بیماری یا مصیبت کو دورکرنے یا شفادینے میں جانور کا دخل ہے،اس میں مقصود صدقہ نہیں ہوتا بلکہ ذبح کرنے کی خصوصیت اور اراقہ دم کو مریض کی بیماری سے شفایاب کا فدیہ (بدلہ ،عوض)سمجھتی ہے ،لہذا یہ عمل غیر قیاسی ہے ،اس کے جائز  ہونے کے لیے نص کی ضرورت ہے اور اس باب میں کوئی دلیل نہیں ہے ،اس بنا پر مذکور ہ عمل  ناجائز ہےاوربدعت ہے ،ایسے عقیدے سے احتراز کرنا نہایت ضروری ہے، تاہم مریض کی صحت کی نیت سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کوئی جانور ذبح کرنا جائز ہے۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے:

"(‌من ‌عمل ‌عملا) أي من أتى بشيء من الطاعات أو بشيء من الأعمال الدنيوية والأخروية سواء كان محدثا أو سابقا على الأمر ليس عليه أمرنا، أي: وكان من صفته أنه ليس عليه إذننا بل أتى به على حسب هواه فهو رد.، أي: مردود غير مقبول، فهذه الرواية أعم."

(كتاب الإيمان ،باب الاعتصام بالكتاب والسنة ،ج:2،ص:222،ط:دارالفكر بيروت لبنان )

کنز العمال میں ہے:

"‌داووا ‌مرضاكم ‌بالصدقة و حصنوا أموالكم بالزكاة؛ فإنها تدفع عنكم الأعراض و الأمراض". الديلمي - عن ابن عمر."

 

(حرف الطاء،كتاب الطب ، الباب الأول ،الفصل الأول في الترغيب،رقم الحديث : 28183 ،24/10 ، ط: مؤسسة  الرسالة)

امدادالفتاوی میں ہے:

سوال :چونکہ درمیان مردمان خواص وعوام این دیار رسم است کہ بوقت الحاق مرضے یا مصیبتے بر سر مریض یا عندالواقعہ بغرض صدقہ ردبلا جانور ذبح می کنند یا می گویند کہ یا الہ العالمین این مریض را شفادہ مابرائے خدا ذبح جانور خواہیم کرد چونکہ اندرین موقع خاص نزول رحم وکرم است نہ کہ غضب بر جانور آیا این چنین رسم جائز یا غیرجائز درزمان خیرالقرون بود یانبود ؟

الجواب :گوبودن این عادت درخیرالقرون بنظر نگذشتہ کہ مگر نظراً الی القواعد الکلیہ الشرعیۃ فی نفسہ اباحت دارد لیکن بسبب بعض عوارض بربدعت بودنش فتویٰ دادن معمول من است وآن عارض این کہ اکثر مردمان درین عمل نفس صدقہ را مقصود ونافع نمی پنداردن بلکہ خصوصیت ذبح واراقہ دم را فدیہ مریض می دانند واین امرغیرقیاسی است محتاج بنص ونص مفقود است ودلیل براین اعتقاد راضی نبودن ایشان است برتصدق بقدر قیمت جانور۔

(کتاب البدعات ،ج:5،:ص:313 ،ط:دارالعلوم کراچی )

قربانی کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا میں ہے:

"مریض کی صحت کی نیت سے خالص اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے لیے کوئی جانور ذبح کرنا جائز ہے، البتہ زندہ جانور کا صدقہ کردینا زیادہ بہترہے۔‘‘

(ص:۹۸،ط:بیت العمارکراچی)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309100456

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں