بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شوال 1445ھ 21 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا خطبہ کے دوران مخصوص کیفیت کے ساتھ بیٹھنے کا التزام کرنا بدعت ہے؟


سوال

 کچھ لوگ خطبہ کے دوران پہلے ہاتھ باندھ دیتے ہیں، جب کہ دوسری مرتبہ ہاتھ کھول دیتے ہیں، کیا یہ طریقہ بدعت میں آتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جمعہ کے  خطبوں  کے دوران یا دونوں خطبوں کے درمیان   جس طرح نماز میں تشہد کی حالت  میں بیٹھاجاتا ہے، اس طرح  بيٹھنا افضل ہے البتہ چہرہ خطیب کی طرف ہونا چاہیے، اور اگر اس طرح بیٹھنے میں تکلیف ہوتی ہے، تو جس طرح سہولت ہو بیٹھنا درست ہے۔

باقی پہلے خطبہ کے دوران دونوں ہاتھ ناف کے نیچے باندھنے اور دوسرے خطبہ کے دوران ہاتھ رانوں پر رکھنے کو اگر کوئی خطبہ سننے کی سنت سمجھتے ہوئے ایسا کرنے کا التزام کرے گا تو یہ عمل بدعت ہوگا اور اگر خطبہ کی سنت سمجھے بغیر ایسا کرے گاتو یہ عمل بدعت تو نہیں ہوگا، تاہم اس کا التزام کرنا جائز نہیں ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"ويستحب للرجل أن يستقبل الخطيب بوجهه هذا إذا كان أمام الإمام، فإن كان عن يمين الإمام أو عن يساره قريباً من الإمام ينحرف إلى الإمام مستعداً للسماع، كذا في الخلاصة."

(کتاب  الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة،1/ 147، ط: رشيدية)

وفيه أيضا:

"إذا شهد الرجل عند الخطبة إن شاء جلس محتبياً أو متربعاً أو كما تيسر؛ لأنه ليس بصلاة عملاً وحقيقة، كذا في المضمرات، ويستحب أن يقعد فيها كما يقعد في الصلاة، كذا في معراج الدرايةً."

(کتاب  الصلاة، الباب السادس عشر في صلاة الجمعة،1/ 148، ط: رشيدية)

الاعتصام للشاطبی میں ہے:

"منها: وضع الحدود كالناذر للصيام قائما لا يقعد ... ومنها: التزام الكيفيات والهيئات المعينة ... ومنها: التزام العبادات المعينة في أوقات معينة لم يوجد لها ذلك التعيين في الشريعة."

(الباب الأول تعريف البدع وبيان معناها،1/ 53،ط: دار ابن عفان السعودية)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503101005

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں