بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا کفارے کی رقم روزانہ کی بنیاد پر کسی مخصوص مسکین کو دینا ضروری ہے؟


سوال

میں ایک مسکین کو روزانہ کفارے کے پیسے دیتاہوں جس دن وہ نہ ملے تو مجھے کیا کرنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ کفارے کے پیسے روزانہ کی بنیادپر کسی مخصوص مسکین کو دینا ضروری نہیں ہے۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کے کفارے کی صورت میں مسکین کو رقم دینا چاہتاہے تو کسی بھی مسکین کو دے سکتاہے اگر مخصوص مسکین کو دیناچاہتاہے اور وہ کسی دن نہ ملنے کی صورت مٰیں وقفہ آنے سے کفارے پر کوئی اثرنہیں پڑتابل کہ دوسرے دن بھی دے سکتاہےاور مخصوص مسکین نہ ہو تو کسی دوسرے مسکین کوبھی اس دن کا مکمل کفارہ دینے سے کفارہ اداہوسکتاہے،البتہ ایک مسکین کو ایک دن میں ایک دن سے زیادہ کا   کفارہ دینا درست نہیں ہے،بصورتِ دیگر  وہ ایک ہی دن کا شمارکیا جائےگا۔

فتاوی عالمگیر ی میں ہے:

"لو أعطى عن كفارة ظهاره مسكينا واحدا ستين يوما كل يوم نصف صاع جاز كذا في الفتاوى السراجية،ولو أعطى مسكينا واحدا كله في يوم واحد لا يجزيه إلا عن يومه ذلك وهذا في الإعطاء بدفعة واحدة وإباحة واحدة من غير خلاف."

(کتاب الطلاق،  باب الباب العاشر فی الکفارۃ،ج:1،ص:513،ط:سعید)

بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:

"(وأما) إذا دفع طعام عشرة مساكين إلى مسكين واحد في يوم واحد دفعة واحدة أو دفعات فلا رواية فيه، واختلف مشايخنا: قال بعضهم: يجوز.وقال عامة مشايخنا: لا يجوز إلا عن واحد؛ لأن ظاهر النص يقتضي الجواز على الوجه الذي بينا إلا أنه مخصوص في حق يوم واحد لدليل كما صار مخصوصا في حق بعض المساكين من الوالدين والمولودين ونحوهم، فيجب العمل به فيما وراء المخصوص، ولما ذكرنا أن الأصل في الطعام هو طعام الإباحة إذ هو المتعارف في اللغة وهو التغدية والتعشية لدفع الجوع وإزالة المسكنة وفي الحاصل دفع عشر جوعات وهذا في واحد في حق مسكين واحد لا يكون فلا بد من تفريق الدفع على الأيام."

(كتاب الكفارات،فصل في شرط جواز كل نوع،ج:5،ص:105،ط:المطبعة الكبری الامیریہ)

جامع الفتاوی میں ہے:

"کفارہ قسم کتناہے؟اورکیاتھوڑاتھوڑااداکرناصحیح ہے؟

سوال:کفارہ قسم کیاہے؟اور اگر کوئی شخص کفارہ اس طرح اداکرےکہ آج کچھ دیااور تھوڑاہفتہ دوہفتہ کے بعدمساکین کودیاتوکیاکفارہ اداہوجائےگا؟۔جواب:قرآن کریم میں قسم کا کفارہ یہ بیان کیا گیاہےکہ اولاًغلام آزادکرے، اگر میسرنہ ہوتودووقت دس مسکینوں کو کھاناکھلائے ، اگر یہ بھی نہ ہوسکےتویاتین روزے رکھے،کھاناایک مسکین کو بھی دس دن تک دونوں وقت کاکھلایاجاسکتاہے،یانقد دےدے اورتھوڑاتھوڑاکرکےدینا بھی درست ہے،بشرطیکہ دس مسیکینوں تک پہنچ جائےیایہ کہ ایک مسکین کو دس دن کھلایاجائے یانقد دےدیاجائے۔"

(باب الایمان والنذر،ج:10،ص:288،ط:ادارۃ تالیفاتِ اشرفیۃ)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144403102343

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں