بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1442ھ- 02 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا جنبی قرآن مجید کو غیر عربی میں پڑھ سکتا ہے؟


سوال

کیا جنبی قرآنِ مجید کو غیر عربی میں پڑھ سکتا ہے ؟

جواب

اگر غیر عربی میں پڑھنے سے مراد یہ ہے کہ  قرآن مجید کو  کسی دوسرے رسم الخط میں لکھا ہوا  ہو، اسے دیکھ کر پڑھا جائے تو  سمجھنا چاہیے کہ قرآنِ مجید کو عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں لکھنا ہی جائز نہیں چہ جائے کہ اس لکھے ہوئے کو دیکھ کر پڑھنے کی اجازت دی جائے، ممانعت کی من جملہ وجوہات کے  ایک وجہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید کے بعض حروف عربی زبان کے ساتھ خاص ہیں جو کسی دوسری زبان میں نہیں پائے جاتے مثلاً: طاء، حا، ضاد وغیرہ  یہ حروف دوسری اکثر زبانوں میں استعمال ہی نہیں ہوتے، اس لیے ان زبانوں میں ان حروف کی ادائیگی کی کوئی شکل ہی نہیں۔  (فتاویٰ جامعہ) (1)

(وکذا فی ’’فتاوی محمودیہ‘‘، جلد نمبر 3، صفحہ نمبر 508)

لہذا قرآن کریم کو غیر عربی میں لکھنا ہی جائز نہیں، اور ایسے نسخے کو اپنے پاس رکھنا اور اس سے تلاوت کرنا بھی جائز نہیں ہے، اور یہ حکم جنبی و غیر جنبی سب کے لیے یک ساں ہے۔ اگر بالفرض کسی جنبی نے ایسے نسخے سے دیکھ کر قرآنِ مجید کا درست تلفظ کیا تو اس کی اجازت نہیں ہوگی؛ کیوں کہ جنبی کے لیے قرآنِ پاک کی تلاوت منع ہے۔

اور اگر آپ کے سوال کا مطلب یہ ہے کہ جنبی آدمی غیر عربی میں ترجمہ پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر کسی زبان میں مکمل قرآنِ مجید کا صرف ترجمہ شائع کیا جائے، عربی زبان میں آیات بالکل نہ لکھی جائیں، فقہاءِ کرام نے اس کی اشاعت سے بھی منع کیا ہے، کیوں کہ صرف ترجمہ شائع کرنا بہت سے دینی نقصانات کا سبب ہے، لہٰذا اس کی اجازت نہیں ہے۔(فتاویٰ جامعہ) (2)

اور اگر قرآنِ مجید کے ساتھ اس کا لفظی ترجمہ ہو تو ایسے مصحف کو حالتِ جنابت میں بغیر حائل کے نہیں چھو سکتا، ترجمہ پڑھنے کا حکم آگے آتاہے۔ البتہ اگر قرآنِ مجید کی آیات کے ساتھ  ترجمہ اور تفسیر دونوں ہوں تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر قرآنی آیات سے زیادہ الفاظ  تفسیر وغیرہ کے ہوں تو  حالتِ جنابت میں اس تفسیر  کو ہاتھ بھی لگا سکتا ہے اور پڑھ بھی سکتا ہے،  لیکن جس حصے پر قرآنی آیات لکھی ہوں اس پر ہاتھ نہیں لگاسکتا اور نہ قرآنی آیات پڑھ سکتا ہے، البتہ مستحب یہ ہے کہ ایسی تفاسیر اور دینی کتب کو پاکی کی حالت میں ہی چھوئے۔

جہاں تک قرآنِ پاک کی آیت کے لفظی ترجمے کے آداب کا تعلق ہے، تو فقہاءِ کرام کی عبارات سے معلوم ہوتاہے کہ قرآنِ مجید کے لفظی ترجمے کے وہی آداب ہیں جو عربی الفاظ کے ہیں، لہٰذا حالتِ جنابت میں لفظی ترجمے کو نہ چھونا چاہیے اور نہ ہی اس کا تلفظ کرنا چاہیے، اگر مطالعے کی ضرورت ہو تو (قرآن مع ترجمہ والا نسخہ کسی کپڑے میں پکڑ کر، یا تفسیر والا نسخہ لے کر) ترجمہ کو دیکھ کر دل ہی دل میں پڑھ لے زبان سے تلفظ نہ کرے۔ (مستفاد از فتاویٰ جامعہ) (3) فقط واللہ اعلم

حوالہ جات:

(1)سوال: قرآنِ کریم کی کسی آیت یا کسی سورت کو بجائے عربی رسم الخط کے گجراتی یا انگریزی رسم الخط میں لکھا جاوے، کیا ایسا کرنا جائز ہے؟  بعض لوگوں نے بمبئی میں ایسا طریقہ ایجاد کیا ہے، پوری سورۂ یٰسین کی گجراتی میں لکھ کر ہر سال چھاپتے ہیں، وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ ہم عربی زبان پڑھے ہوئے نہیں، ہمیں اس میں آسانی ہے؟

جواب: بصورتِ مسئولہ ایسا کرنا ناجائز ہے اور نہ اس کا چھاپنا کارِ ثواب ہے، اور نہ اس میں تلاوت کرنا کارِ خیر ہے، ۔۔۔ علاوہ ازین گجراتی زبان میں اگر قرآنِ مجید لکھا جائے تو اس میں بہت کمی بیشی آتی ہے، جو تحریف اور ناجائز ہے ۔۔۔ لہٰذا یہ فعل ناجائز ہے، یہ عذر  کہ ہمیں عربی نہیں آتی، بالکل بے کار ہے، عربی سیکھنا (جس سے قرآن پڑھ سکے) کوئی مشکل نہیں، جو عربی زبان پر عبور حاصل کرسکتاہے، اس کے لیے عربی سیکھنا کیا مشکل ہے، اور اگر مشکل ہو تو جتنی سورتیں یاد ہوں ان کی تلاوت کریں، اور روزانہ اپنے پیش امام سے پڑھتا رہے، اس کو بہت ثواب ملے گا۔۔۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: رضاء الحق (17/04/1401)                                  الجواب صحیح: محمد عبدالسلام چاٹ گامی

(2) سوال: قرآن شریف کا ترجمہ بلامتن ہندوستان کی کسی بھی زبان میں شائع کیا جاسکتاہے یا نہیں؟

جواب: بغیر متن قرآنِ کریم کسی بھی زبان میں شائع کرنا ناجائز ہے، اس میں قوی اندیشہ ہے کہ آگے چل کے اسی ترجمہ کو قرآن سمجھا جانے لگے گا، اور یہ خطر ناک چیز ہے، اور انجیل کے تراجم سے جو چیز پیدا ہوچکی ہے، وہی یہاں بھی پیدا ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: محمد یوسف بنوری (17/04/1381)

سوال: کیا ترجمۂ قرآنِ مجید بلامتن شائع ہوسکتاہے؟

جواب: قرآنِ مجید کا ترجمہ اردو میں یا کسی اور زبان میں متن سے علیحدہ شائع کرنے کی ممانعت فقہ کے اس جزئیہ سے معلوم ہوتی ہے:

"في الفتح عن الکافي: إن اعتاد القراءة بالفارسیة أو أراد أن یکتب مصحفًا بها یمنع". (رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، مطلب في بیان المتواتر و الشاذ، (1/486) ط: ایچ ایم سعید، کراچي)

علاوہ ازیں کتبِ سابقہ کے تجربہ سے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ اس طرح سے شائع کرنا اکثر عدمِ مبالاۃ بالقرآن اور تساہل فی التدبر کا موجب ہوگا، اور الفاظِ قرآن جو سراسر خیر و ثواب اور معارف و حکم سے مملو ہیں، ترجمہ پڑھنے والے کے نزدیک غیر مانوس ہوجائیں گے، جو باعثِ حرمان ہے۔ فقط واللہ اعلم

کتبہ: ولی حسن (11/01/1381)

(3) سوال: کیا کسی ترجمہ کے آداب و حقوق وہی ہیں جو اصل کے ہیں؟

جواب: جزئیاتِ فقہ سے تو یہی معلوم ہوتاہے، عالم گیری میں ہے کہ:

" ولوکان القرآن مکتوبًا بالفارسیة، یکره لهم مسّه عند أبي حنیفة، وکذا عندهما علی الصحیح، هکذا في الخلاصة". (الهندیة، کتاب الطهارة، الباب السادس في الدماء المختصة بالنساء، الفصل الرابع في أحكام الحيض و النفاس، (1/39) ط: رشیدیه) .... فقط والله أعلم

کتبہ: ولی حسن ٹونکی

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 486):
"وتجوز كتابة آية أو آيتين بالفارسية لا أكثر ......   في الفتح عن الكافي: إن اعتاد القراءة بالفارسية أو أراد أن يكتب مصحفًا بها يمنع، وإن فعل في آية أو آيتين لا، فإن كتب القرآن وتفسير كل حرف وترجمته جاز. اهـ".

الإتقان في علوم القرآن (4/ 168):
"وقال أشهب: سئل مالك: هل يكتب المصحف على ما أحدثه الناس من الهجاء؟ فقال: لا إلا على الكتبة الأولى رواه الداني في المقنع، ثم قال: ولا مخالف له من علماء الأمة.
وقال في موضع آخر: سئل مالك عن الحروف في القرآن الواو والألف، أترى أن يغير من المصحف إذا وجد فيه كذلك؟ قال: لا، نحو الواو في "أولوا"،وقال الإمام أحمد: يحرم مخالفة مصحف الإمام في واو أو ياء أو ألف أو غير ذلك وقال البيهقي في شعب الإيمان: من كتب مصحفًا فينبغي أن يحافظ على الهجاء الذي كتبوا به هذه المصاحف، ولايخالفهم فيه ولايغير مما كتبوه شيئًا فإنهم كانوا أكثر علمًا وأصدق قلبًا ولسانًا وأعظم أمانةً منا فلاينبغي أن يظن بأنفسنا استدراكًا عليهم. قلت، وسنحصر أمر الرسم في الحذف والزيادة والهمز والبدل والفصل، وما فيه قراءتان فكتب على إحداهما".


فتوی نمبر : 144107201090

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں