بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا استنجاء سے روزہ ٹوٹتا ہے؟


سوال

 کیا استنجاء سے روزہ ٹوٹتا ہے? اور اگر ٹوٹتا ہے تو بندے کو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

استنجا کرنے  سے روزہ اس وقت ٹوٹتا ہے جب پانی مقعد کے اندرونی مقام تک پہنچ جائے، عام طور پر استنجا میں ایسا ہوتا نہیں، اس لیے معمول کے استنجا سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2 / 397):

"ولو بالغ في الاستنجاء حتى بلغ موضع الحقنة فسد، وهذا قلما يكون ولو كان فيورث داء عظيمًا". فقط و الله أعلم


فتویٰ نمبر : 144109202134

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں