بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو القعدة 1445ھ 24 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا ہر جامع مسجد میں ایک نماز کا ثواب پانچ سو نمازوں کے برابر ہے؟


سوال

 کتابوں میں ایک حدیث آتی ہے کہ جامع مسجد میں باجماعت نماز پہ 500 نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔ آج کل شہر میں ہر مسجد جامع مسجد ہوتی ہے کیونکہ وہاں جمعہ ہوتا ہے تو کیا شہر کی ہر مسجد میں باجماعت نماز سے پانچ سو نمازوں کا ثواب ہی ملتا ہے؟

جواب

یہ حدیث  سنن ابن ماجہ میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت سے مذکور ہے اور اس میں "الْمَسْجِدِ الَّذِي يُجَمَّعُ فِيهِ" کے الفاظ وارد ہیں، جن کا مصداق شروح حدیث کے مطابق وہ مساجد ہیں جن میں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے، لہذا اس حدیث کے مطابق ہر اس مسجد میں ایک نماز کا ثواب پانچ سو نمازوں کے برابر ہے جس میں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہو، لیکن محدثین کرام نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے، لہذا اس حدیث کی بنا پر جامع مسجد میں ایک نماز کا ثواب  پانچ سو نمازوں کے برابر ہونے کویقینی طور پر ثواب ثابت نہیں کیا جا سکتا۔

سنن ابن ماجہ میں ہے:

"1413 - حدثنا هشام بن عمار قال: حدثنا أبو الخطاب الدمشقي قال: حدثنا رزيق أبو عبد الله الألهاني، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صلاة الرجل في بيته بصلاة، وصلاته في مسجد القبائل بخمس وعشرين صلاة، وصلاته في المسجد الذي يجمع فيه ‌بخمس ‌مائة ‌صلاة، وصلاته في المسجد الأقصى بخمسين ألف صلاة، وصلاته في مسجدي بخمسين ألف صلاة، وصلاة في المسجد الحرام بمائة ألف صلاة»".

(كتاب إقامة الصلاة، والسنة فيها، باب ما جاء في الصلاة في المسجد الجامع، 1/ 453 ت عبد الباقي، ط:دار إحياء الكتب العربية)

ترجمہ:  حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے  روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مرد کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ایک نماز کے برابر ہے اور محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا پچیس نمازوں کے برابر اور جامع مسجد میں نماز پڑھنا پانچ سو نمازوں کے برابر ہے اور مسجد اقصٰی میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور میری مسجد میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے ۔

حاشیۂ سندی علی سنن ابن ماجہ میں ہے: 

"قوله: (الذي يجمع) بالتشديد من المتجمع أي يصلى فيه الجمعة...

وفي الزوائد إسناده ضعيف لأن أبا الخطاب الدمشقي لا يعرف حاله ورزيق فيه مقال حكي عن ابن زرعة أنه قال لا بأس به وذكره ابن حبان في الثقات وفي الضعفاء وقال ينفرد بالأشياء لا يشبه حديث الإثبات لا يجوز الاحتجاج به إلا عند الوفاق والله أعلم".

(كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في الصلاة في المسجد الجامع، 1/ 431، ط: دار الفكر)

مصباح الزجاجہ فی زوائد ابن ماجہ میں ہے:

"هذا إسناد ضعيف أبو الخطاب الدمشقي لا نعرف حاله ورزيق أبو عبد الله الألهاني فيه مقال حكي عن أبي زرعة أنه قال لا بأس به وذكره ابن حبان في الثقات وفي الضعفاء وقال ينفرد بالأشياء التي لا تشبه حديث الثقات لا يجوز الاحتجاج به إلا عند الوفاق انتهى.وأورده ابن الجوزي في العلل المتناهية بسند ابن ماجة وضعفه برزيق".

(‌‌‌‌كتاب إقامة الصلاة والسنن فيها، باب الصلاة في المساجد ومسجد الجامع، 2/ 15، ط:دار العربية)

(كذا في العلل المتناهية في الأحاديث الواهية، كتاب الحج، 2/ 86، ط: إدارة العلوم الأثرية، فيصل آباد)

فتح الباری لابن حجرمیں ہے:

"والصلاة في البيت مطلقا أولى منها في السوق لما ورد من كون الأسواق موضع الشياطين والصلاة جماعة في البيت وفي السوق أولى من الانفراد وقد جاء عن بعض الصحابة قصر التضعيف إلى خمس وعشرين على التجميع وفي المسجد العام مع تقرير الفضل في غيره وروى سعيد بن منصور بإسناد حسن عن أوس المعافري أنه قال لعبد الله بن عمرو بن العاص أرأيت من توضأ فأحسن الوضوء ثم صلى في بيته قال حسن جميل قال فإن صلى في مسجد عشيرته قال خمس عشرة صلاة قال فإن مشى إلى مسجد جماعة فصلى فيه قال خمس وعشرون انتهى وأخرج حميد بن زنجويه في كتاب الترغيب نحوه من حديث واثلة وخص الخمس والعشرون بمسجد القبائل قال وصلاته في المسجد الذي يجمع فيه أي الجمعة بخمسمائة وسنده ضعيف".

(باب فضل صلاة الجماعة، 2/ 135، ط: دار المعرفة)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144504101194

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں