بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1445ھ 20 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا حنفی مسلک والے افراد نمازعصر شافعی و مالکی مسلک کے وقت کے مطابق ادا کرسکتے ہیں؟


سوال

کیا حنفی مسلک والے افراد نمازعصر شافعی و مالکی مسلک کے وقت کے مطابق ادا کرسکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ   ظہر کا وقت اس وقت ختم ہوتا ہے جب سایہ اصلی کے علاوہ  ہر چیز کا سایہ دو مثل ہوجائے ، لہٰذا عصر کی نماز مثلِ ثانی میں پڑھنا درست نہیں ہے، البتہ جن ممالک میں دیگر فقہی مسالک رائج ہیں اور مساجد میں نماز مثل اول کے بعد ادا کی جاتی ہے، اور حنفی مسلک کے مطابق مثل ثانی کے بعد جماعت  کے ساتھ نماز کی ادائیگی عذر کی بنا پر صاحبین کے مسلک ( یعنی جب ہر چیز کا سایہ سوائے سایہ اصلی کے  ایک مثل ہوجائے تو  ظہر کا وقت ختم ہوجائے گااور عصر کا وقت شروع ہوجائے گا) پر عمل کرنے بھی گنجائش ہے،  اس لیے عذر کی بنا پر ان کے قول پر عمل کیا   جاسکتا ہے،  البتہ اس  کی مستقل عادت بنانا چوں کہ امام صاحب کے مفتی بہ مذہب کو ترک کرنا ہے، اس لیے یہ درست نہیں ہے۔

لہٰذا  حنفی شخص  جہاں رہائش پذیر ہو،  اگر وہاں  کوئی ایسی مسجد موجود ہو جہاں حنفی مذہب کے مطابق وقت داخل ہونے کے بعد  عصر کی نماز ہوتی ہو تو وہیں جاکر نماز پڑھنا ضروری ہوگا، اسی طرح اگر وہاں حنفی متبعین اپنی جماعت خود کراسکتے ہیں تب بھی مثلِ ثانی کے بعد ہی عصر کی نماز پڑھنا لازم ہوگا، اور  اگر ایسی صورت ممکن نہیں ہو  بلکہ اس جگہ  میں  مثلِ اول کے بعد عصر کی  نماز پڑھنے کا تعامل ہو اور  دو مثل  کے بعد نماز پڑھنے کی صورت میں مستقل طور پر جماعت کا ترک لازم آتا ہو، یعنی قریب میں کوئی اور مسجد نہ ہو جہاں عصر کی نماز مثلین کے بعد پڑھی جاتی ہو اور نہ ہی اپنی مرضی سے خود جماعت کراسکتا ہو تو  مثلِ ثانی میں شوافع اور مالکیہ  کی اقتداء میں عصر کی نماز کی گنجائش ہوگی۔

البتہ اگر اس دوران  کسی وجہ سے جماعت نہ مل سکے تو (انفرادی طور پر نماز پڑھتے ہوئے) مثلِ  ثانی کے بعد ہی عصر پڑھنا لازم ہوگا۔ 

" رد المحتار "میں ہے:

"(ووقت الظهر من زواله) أي ميل ذكاء عن كبد السماء (إلى بلوغ الظل مثليه) وعنه مثله، وهو قولهما وزفر والأئمة الثلاثة. قال الإمام الطحاوي: وبه نأخذ. وفي غرر الأذكار: وهو المأخوذ به. وفي البرهان: وهو الأظهر. لبيان جبريل. وهو نص في الباب. وفي الفيض: وعليه عمل الناس اليوم وبه يفتى (سوى فيء) يكون للأشياء قبيل (الزوال) ويختلف باختلاف الزمان والمكان، ولو لم يجد ما يغرز اعتبر بقامته وهي ستة أقدام بقدمه من طرف إبهامه(ووقت العصر منه إلى) قبيل (الغروب)."

(كتاب الصلاة، ج:1، ص:359، ط:سعيد) 

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144408102408

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں