بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کیا حج میں حلق کے ساتھ داڑھی کے بال لینا بھی ضروری ہے؟


سوال

1- کیا حج میں قربانی کے بعد سر منڈوانے کے ساتھ داڑھی کو  بھی کاٹنا ضروری ہے؟

2-  وضو کے بعد اگر لنگی پاجامہ قمیص پینٹ ٹخنہ کے نیچے ہو تو وضو باقی رہتا ہے یا نہیں؟

جواب

1- مردوں کے لیے  حج  کے اعمال سے فراغت کے بعد حلق یا قصر دونوں میں سے کسی ایک عمل کے انجام دینے کی اجازت ہے۔ مرد حضرات  اگرپورے سر کے بال منڈوائیں اسے ’’حلق‘‘  کہاجاتاہے۔ اوراگر کوئی شخص حلق نہیں کروانا چاہتا تو  کم از کم چوتھائی سر کے بال ایک پورے کی مقدار قصر کرنا ضروری ہے، سر کے جس حصے سے بھی چوتھائی سر کی مقدار ایک پورے کے بقدر بال کاٹ دیے تو احرام سے حلال ہوجائے گا۔ اور  اگر کسی مرد کے بال پہلے سے ایک پورے سے چھوٹے ہوں تو ایسی صورت میں قصر کی اجازت نہیں ہوگی، بہر صورت پورے سر کا حلق ہی کرانا ہوگا۔ شرعی اعتبار سے  مردوں کے لیے قصر (یعنی بال کتروانے) کے مقابلہ میں حلق (یعنی پورے سر کے بال منڈوانا) زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنے سرمبارک کا حلق فرماکر ارشاد فرمایا: "رحم اللّٰه المحلقین"۔ یعنی اللہ تعالیٰ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائیں، توصحابہ نے عرض کیا کہ: ’’اے اللہ کے رسول! سر کتروانے والوں پر بھی رحمت ہو‘‘، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی فرمایاکہ: "رحم اللّٰه المحلقین"۔ تو صحابہ نے دوبارہ مقصرین یعنی کتروانے والوں کے لیے دعا کی درخواست کی، مگر آپ نے تیسری مرتبہ بھی حلق کرنے والوں ہی کے لیے دعا فرمائی اور چوتھی مرتبہ میں مقصرین کو دعا میں شامل فرمایا۔(صحیح البخاري، باب الحلق والتقصير عند الإحلال.2/213)

جہاں تک حلق کے ساتھ داڑھی کے بالوں سے متعلق سوال ہے تو اگر اس سے مقصود یہ ہو کہ سر کے بالوں سے متعلق اس عمل کی طرح داڑھی کے کچھ بال بھی کاٹنالازم ہو، اس کا شریعت میں حکم نہیں ہے، نیز ایک مشت سے داڑھی کم کرنا یا داڑھی منڈوانا دونوں عمل شرعاًحرام اور ناجائز ہیں، اس کی اجازت نہ عام ایام میں ہے نہ ہی حج کے موقع پر۔

البتہ اگر کسی شخص کی داڑھی ایک مشت سے زیادہ ہو تو ایسے شخص کے لیے اس موقع پر سر کے بال کٹوانے کے ساتھ ساتھ داڑھی کے ایک مشت سے زائد بال کٹوانے کی اجازت ہوگی۔ البتہ یہ یاد رہے کہ احرام کا کھولنا داڑھی کے زائد بال کٹوانے پر موقوف نہیں۔ 

صحیح بخاری میں ہے:

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی الله عنهما عَنِ النَّبِيِّ صلیٰ الله عليه وآله وسلم قَالَ: خَالِفُوا الْمُشْرِکِينَ وَفِّرُوا اللِّحَی وَأَحْفُوا الشَّوَارِبَ. وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا حَجَّ أَوِ اعْتَمَرَ قَبَضَ عَلَی لِحْيَتِهِ فَمَا فَضَلَ أَخَذَهُ.

ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، مونچھیں باریک کرو اور داڑھی بڑھاؤ۔ حضرت ابن عمر جب حج یا عمرہ کرتے تو اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو اضافی ہوتی اس کو کاٹ دیتے۔

(صحیح بخاري، 5: 2209، رقم: 5553، ط: دار ابن کثير اليمامة ،بيروت، لبنان)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202542

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں