بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا غیر مستحق زکوۃ وصول کر اپنے مستحق والدین کو دے سکتا ہے؟


سوال

شادی  شدہ آدمی نے زکوۃلے لی،  مستحق نہ تھا ۔اب اس کے والدین کا کوئی ذریعہ آمدن نہیں، کیا وہ پیسہ والدین کو دیا جا سکتا ہے؟ 

جواب

مذکورہ مسئلے کی دو حیثیتیں:

1: زکوۃ ادا ہونا۔ 2: مذکورہ شخص کا عمل۔

1۔ واضح رہے کہ زکوۃ  کی رقم کسی مستحق کو دینے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اُس کے بارے میں غالب گمان یہ ہو کہ وہ مستحقِ زکوۃ ہے، اس سے زائد اُس کی تحقیق کرنا ضروری نہیں ہے، اگر زکوۃ ادا کرنے والے نے کسی کو مستحق سمجھ کر زکوۃ ادا کر دی تو زکات ادا ہو جائے گی؛ لہذا اگر کسی جگہ مستحقین کو زکات دی جا رہی ہو اور کوئی غیر مستحق شخص زکوۃ  کی رقم وصول کر لیتا ہے تو  زکات ادا کرنے والے کی زکات ادا ہو جائے گی۔ البتہ غیر مستحق شخص پر لازم ہو گا کہ وہ یہ رقم واپس لوٹائے، کسی مستحق  کو دینا درست نہ ہو گا۔

2۔ مذکورہ شخص کا یہ فعل ناجائز  اور گناہ ہے۔ 

بہرحال! اگر زکوۃ ادا کرنے والے کو زکات وصول کرنے والے  کی اس خیانت کا علم نہیں تو وہ بری الذمہ ہو جائے گا اور گناہ خیانت کرنے والے پر ہو گا۔ اگر وہ شخص زکات دینے والے  کے علم میں لاکر اور اس کی اجازت سے کسی اور مستحق کو دیتا ہے  تو اس کی اجازت ہوگی۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 353):

"(و إن بان غناه أو كونه ذميًّا أو أنه أبوه أو ابنه أو امرأته أو هاشمي لا) يعيد؛ لأنه أتى بما في وسعه، حتى لو دفع بلا تحر لم يجز إن أخطأ".

النهر الفائق شرح كنز الدقائق (1/ 467):

"(فبان) أي: ظهر (أنه) أي: المدفوع إليه (غنى هاشمي و) بان أنه (كافر أو أبوه أو ابنه) أو زوجته (صح) دفعه عندهما، خلافًا للثاني؛ لأنه ظهر خطؤه بيقين، لكن لايستردّه اتفاقًا وهل يطيب له؟ لا رواية فيه، و اختلف المشايخ، و على أنه لايطيب يتصدق به، و قيل: يرده على المعطي له على وجه التمليك منه ليفيد الأداء".

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (2/ 267):

"وليس له أن يسترد ما دفعه إذا تبين أنه ليس بمصرف ووقع تطوعًا، كذا في البدائع. واختلف المشايخ في كونه يطيب للفقير، و على القول بأنه لايطيب قيل: يتصدق به؛ لخبثه، وقيل: يرده على الدافع، كذا في معراج الدراية".

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144109200597

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں