بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا فجر کی فرض نماز کے بعد سنتیں پڑھ سکتے ہیں؟


سوال

اگر فجر کی نماز کے دو فرض جماعت سے ادا کرنے کے بعد بھی مکروہ وقت شروع ہونے سے پہلے کچھ وقت باقی ہے تو کیا اس وقت میں فجر کی چھوٹی ہوئی دو سنت ادا کر سکتے ہیں؟

جواب

 واضح رہے احادیث میں فجر کی سنتوں  کی خصوصی تاکید آئی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد  فرمایا ہے :

"فجر کی سنت دو گانہ کو نہ چھوڑو ، اگرچہ  گھوڑے تمہیں روند ڈالیں۔"

اسی طرح ایک روایت میں ارشاد گرامی منقول ہے:

"فجر کی دو رکعت دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے ان سب سے بہتر ہیں"۔

اسی لیے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول ہے کہ انہوں نے فجر کی اقامت ہونے کے بعد بھی سنتِ فجر کو ادا فرمایا ہے،اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کایہ عمل در اصل سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح و توضیح کا درجہ رکھتا ہے، کیوں کہ صحابہ کے بارے میں یہ بات ناقابلِ تصور ہے کہ وہ سنتِ رسول کی خلاف ورزی کریں، اسی پس منظر میں علمائے احناف رحمہم اللہ نے فرمایا کہ فجر کی جماعت کھڑی ہونے کے بعد بھی یہ فجر کی دو سنتیں ادا کی جائیں گی ۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی شخص فجر کی نماز کے لیے مسجد آئے اور جماعت شروع ہو چکی ہو تو اگر اسے امید ہوکہ وہ سنتیں پڑھ کر امام کے ساتھ قعدہ اخیرہ تک بھی شامل ہوجائے گا، تو اسے چاہیے کہ (کسی ستون کے پیچھے، یا برآمدے یا صحن میں یا جماعت کی صفوں سے ہٹ کر)  فجر کی سنتیں ادا کرے اور پھر امام کے ساتھ  جماعت میں شامل ہوجائے، اور اگر سنتیں پڑھنے کی صورت میں نماز مکمل طور پر نکلنے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں سنتیں چھوڑ دے اور فرض نماز میں شامل ہوجائے،  اورجو سنت رہ  گئیں ہیں انہیں فرض نماز کے بعد یعنی سورج طلوع ہونے سے پہلے  پہلے پڑھنا جائز نہیں ہے، البتہ سورج طلوع ہوجانے کے بعد  فجر کی سنتوں کی  قضا کی جاسکتی ہے اور یہ حکم اسی دن کے زوال تک کے لیے ہے، زوال کے بعداسی دن کی  یا کسی دوسرے دن کی فجر کی سنتوں کی قضا درست نہیں۔

شرح مشکل الآثار (10/ 320،321)  میں ہے:

" عن عائشة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ركعتا الفجر خير من الدنيا وما فيها".

وفیه ایضاً:(ج:10،ص:321)

" عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لاتتركوا ركعتي الفجر و إن طردتكم الخيل."

مصنف عبدالرزاق  (2/ 444) میں ہے:

"4021 - 'عن أبي إسحاق، عن عبد الله بن أبي موسى قال: «جاءنا ابن مسعود والإمام يصلي الفجر، فصلى ركعتين إلى سارية، ولم يكن صلى ركعتي الفجر»."

فتاوی شامی میں ہے:

"(و كذا يكره تطوع عند إقامة صلاة مكتوبة) أي إقامة إمام مذهبه ؛ لحديث: «إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة» (إلا سنة فجر إن لم يخف فوت جماعتها) ولو بإدراك تشهدها، فإن خاف تركها أصلًا.

(قوله: إلا سنة فجر)؛ لما روى الطحاوي وغيره عن ابن مسعود: أنه دخل المسجد وأقيمت الصلاة فصلى ركعتي الفجر في المسجد إلى أسطوانة، وذلك بمحضر حذيفة وأبي موسى، ومثله عن عمر وأبي الدرداء وابن عباس وابن عمر، كما أسنده الحافظ الطحاوي في شرح الآثار، ومثله عن الحسن ومسروق والشعبي شرح المنية.
(قوله: ولو بإدراك تشهدها) مشى في هذا على ما اعتمده المصنف والشرنبلالي تبعاً للبحر، لكن ضعفه في النهر، واختار ظاهر المذهب من أنه لا يصلي السنة إلا إذا علم أنه يدرك ركعة، وسيأتي في باب إدراك الفريضة، ح. قلت: وسنذكر هناك تقوية ما اعتمده المصنف عن ابن الهمام وغيره."

(كتاب الصلوة، ج:1، ص:377، ط: سعيد)

وفیه ایضاً:

"(ولا يقضيها إلا بطريق التبعية ل) قضاء (فرضها قبل الزوال لا بعده في الأصح)؛ لورود الخبر بقضائها في الوقت المهمل، 

(قوله: ولا يقضيها إلا بطريق التبعية إلخ) أي لا يقضي سنة الفجر إلا إذا فاتت مع الفجر فيقضيها تبعاً لقضائه لو قبل الزوال؛ وما إذا فاتت وحدها فلا تقضى قبل طلوع الشمس بالإجماع؛ لكراهة النفل بعد الصبح. وأما بعد طلوع الشمس فكذلك عندهما. وقال محمد: أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال كما في الدرر. قيل: هذا قريب من الاتفاق؛ لأن قوله: "أحب إلي" دليل على أنه لو لم يفعل لا لوم عليه. وقالا: لا يقضي، وإن قضى فلا بأس به، كذا في الخبازية. ومنهم من حقق الخلاف وقال: الخلاف في أنه لو قضى كان نفلاً مبتدأً أو سنةً، كذا في العناية يعني نفلاً عندهما، سنةً عنده كما ذكره في الكافي إسماعيل".

(كتاب الصلوة، باب ادراك الفريضة، ج:2، ص:57، ط: سعيد)

فقط والله أعلم 


فتوی نمبر : 144405101856

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں