بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو القعدة 1445ھ 22 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا دوکان کے زائد کرائے کی وجہ سے چیزیں مہنگے داموں میں بیچ سکتے ہیں؟


سوال

میں ایک تاجر ہوں ہماری ایک دوکان ہے جس کا کرایہ ایک لاکھ ہے اورپوش علاقہ  میں ہونے کی وجہ سے ہماری پوری مارکیٹ میں کرایہ زیادہ ہی ہے  اور باقی علاقوں کی نسبت یہاں چیزیں مہنگی بکتی ہیں اور بیچنا مجبوری ہے کیوں کہ کرائے زیادہ ہیں۔ مثلاً باقی بازاروں میں جو چیز سولہ سو میں بکتی ہے یہاں وہ مجبوراً 18 سو سے دو ہزار تک بکتی ہے، کیوں کہ اگر سستی بیچتے ہیں تو کرائے پورے نہیں ہوتے،  مجھے شک رہتا ہے کہ کہیں یہ حرام کمائی تو نہیں اور یہ کہ گاہک کی تعداد بھی زیادہ نہیں ہوتی؟

جواب

واضح رہے کہ خرید و فروخت میں قیمت کی تعیین میں اصل مداربیچنے والے  اور    خریدارکی باہمی رضامندی کا ہے ،اور  اس میں شرعاً  حد بندی نہیں۔ البتہ دھوکے اور  غبن فاحش یعنی ایسی زائد  قیمت میں فروخت کرنا جس کا تاجروں میں  رواج نہ ہو  جائز نہیں ،لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل خریدار کو دھوکے اور غبنِ فاحش سے نہیں بیچتے اور خریدار اپنی مرضی سے زائد قیمت پر خریدتے ہیں تو سائل کے لیے یہ نفع حلال ہے۔

تبیین الحقائق میں ہے :

"ثم قدر ‌الغبن اليسير هنا بما يدخل تحت تقويم المقومين وما لا يدخل تحت تقويم المقومين فاحش؛ لأن القيمة تعرف بالحزر والظن بعد الاجتهاد فيعذر فيما يشتبه؛ لأنه يسير لا يمكن الاحتراز عنه ولا يعذر فيما لا يشتبه لفحشه ولإمكان الاحتراز عنه؛ لأنه لا يقع في مثله عادة إلا عمدا."

(‌‌كتاب الوكالة،باب الوكالة بالبيع والشراء،فصل الوكيل بالبيع والشراء لا يعقد مع من ترد شهادته له، ج4، ص272، ط:المطبعة الكبرى الأميرية)

فقط والله اعلم


فتوی نمبر : 144409101620

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں