بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1444ھ 01 اکتوبر 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا دو افراد کا ایک بکرے میں حصہ ڈالنے سے قربانی ادا ہوگی؟


سوال

زید اور بکر دونوں  بھائیوں  نے ایک مشترکہ  دنبہ خریدا عیدالاضحی کے موقع پر ،حالانکہ دونوں  صاحب نصاب نہیں ہیں ، عید سے ایک دن پہلے  زید کو معلوم ہوا که میری بیوی  صاحب نصاب  ہے ،زید نے اپنے بھائی بکر کو بتائے بغیر  ماں  سے کہا کی یہ دنبہ میں اپنی بیوی کے طرف سے ذبح کروں گا ؛کیونکہ اس پر قربانی واجب ہے ،اور بھائی کو میں عید کے بعد رقم لوٹادوں گا ،قربانی کے بعد جب بکر کو معلوم ہوا تو ناراض ہوکر رقم اور گوشت دو نوں لینے سے انکار کیا اب سوال یہ ہےکہ: 

1۔ زید اور بکر دونوں نے جو مشترکہ چھوٹے جانور میں حصہ ڈالا ہے ،کیا یہ قربانی کے حکم میں آتاہے؟( یعنی ان دونوں کو قربانی کاثواب ملے گا یا عام نفلی صدقہ کا ) کیونکہ فقہاء احناف کے نزدیک تو چھوٹے جانور میں دو آدمی شریک نہیں ہوسکتے؟

2۔زید نے جو بیوی کے طرف سے بکر کو بتائے بغیر قربانی کردی ہے تو اس سے اس کی بیوی کی واجب قربانی اداہوگئی یا نہیں ؟ 

3۔اگر بکر قربانی سے پہلے یا بعد میں راضی ہو ا تو اس  صورت میں قربانی کا کیا حکم  ہے؟

جواب

1۔صورتِ  مسئولہ میں زید اوربکر کا ایک دنبہ میں حصہ ڈالنا درست نہیں؛  اس لیے کہ چھوٹے جانور مثلاً :دنبہ ،بکرا میں ایک ہی شخص کی قربانی ہوسکتی ہے،   دو افراد کا  ا یک ہی بکرے یا دنبہ میں قربانی کرنے کےصورت میں   کسی ایک کا ذمہ بھی ساقط نہ ہوگا،اور نہ ہی یہ قربانی کے حکم میں آئے گا ،بلکہ دونوں کو عام نفلی عبادت کاثواب ملے گا  ۔

2۔صورت مسئولہ میں زید کی بیوی کي قربانی نہیں ہوئی ؛کیونکہ جانور کے مالک کے اجازت کے بغیر اس نے ذبح کیا ۔

3۔اگر بکر  راضی ہوتو اس صورت میں زید کی بیوی کی قربانی درست ہوجائے گی  ،لیکن زید اور بکر نے جو  قربانی کے نیت کی تھی ان کے ذمہ وہ باقی ہے۔

بدائع الصنائع ميں هے:

"وأما قدره فلا يجوز الشاة والمعز إلا عن واحد وإن كانت عظيمةً سمينةً تساوي شاتين مما يجوز أن يضحى بهما؛ لأن القياس في الإبل والبقر أن لا يجوز فيهما الاشتراك؛ لأن القربة في هذا الباب إراقة الدم وأنها لا تحتمل التجزئة؛ لأنها ذبح واحد، وإنما عرفنا جواز ذلك بالخبر فبقي الأمر في الغنم على أصل القياس.

فإن قيل: أليس أنه روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى بكبشين أملحين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لا يذبح من أمته فكيف ضحى بشاة واحدة عن أمته عليه الصلاة والسلام؟

(فالجواب) أنه عليه الصلاة والسلام إنما فعل ذلك لأجل الثواب؛ وهو أنه جعل ثواب تضحيته بشاة واحدة لأمته، لا للإجزاء وسقوط التعبد عنهم، ولا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة، ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء.

وقال مالك - رحمه الله -: يجزي ذلك عن أهل بيت واحد - وإن زادوا على سبعة -، ولا يجزي عن أهل بيتين - وإن كانوا أقل من سبعة -، والصحيح قول العامة؛ لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: «البدنة تجزي عن سبعة والبقرة تجزي عن سبعة». وعن جابر - رضي الله عنه - قال: «نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البدنة عن سبعة والبقرة عن سبعة من غير فصل بين أهل بيت وبيتين»؛ ولأن القياس يأبى جوازها عن أكثر من واحد؛ لما ذكرنا أن القربة في الذبح، وأنه فعل واحد لا يتجزأ؛ لكنا تركنا القياس بالخبر المقتضي للجواز عن سبعة مطلقاً فيعمل بالقياس فيما وراءه؛ لأن البقرة بمنزلة سبع شياه، ثم جازت التضحية بسبع شياه عن سبعة سواء كانوا من أهل بيت أو بيتين فكذا البقرة".

(كتاب التضحية،فصل في محل إقامة الواجب في الأضحية،ج:5،ص:70،ط:دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"رجل ذبح أضحية غيره عن نفسه بغير أمره، فإن ضمنه المالك قيمتها يجوز عن الذابح دون المالك؛ لأنه ظهر أن الإراقة حصلت على ملكه، وإن أخذها مذبوحة تجزئ عن المالك؛ لأنه قد نواها فليس يضره ذبح غيره لها، كذا في محيط السرخسي."

 (كتاب الأضحية،الباب السابع في التضحية عن الغير وفي التضحية بشاة الغير عن نفسه،ج: 5،ص:302،ط: رشیدیه) 

الدر مع الرد  میں ہے:

"(وفقير) عطف عليه (شراها لها) لوجوبها عليه بذلك حتى يمتنع عليه بيعها (و) تصدق (بقيمتها غني شراها أولا) لتعلقها بذمته بشرائها أولا، فالمراد بالقيمة قيمة شاة تجزي فيها".

(قوله: لوجوبها عليه بذلك) أي بالشراء، وهذا ظاهر الرواية؛ لأن شراءه لها يجري مجرى الإيجاب، وهو النذر بالتضحية عرفاً، كما في البدائع".

(کتاب الأضحية،ج:6،ص:321،ط:سعيد)

 فقط واللہ أعلم


فتوی نمبر : 144311101753

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں