بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 ذو القعدة 1445ھ 23 مئی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا کرپٹو کی حلال صورتوں میں کاکاروبار کرنا جائز ہے؟


سوال

کرپٹو کرنسى اىک فرضى کرنسى ہے، لىکن اس مىں کرپٹو ٹوکن آدھے حلال ہىں آدھے حرام ۔حلال والے مىں کام کرنا جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ کرپٹو کرنسی اور کرپٹو ٹوکن کی تمام صورتیں مکمل طور پر محض ایک فرضی کرنسی ہے،اس کی بعض صورتوں کے حلال ہونے  اور بعض کے حرام ہونے کی کوئی حقیقت نہیں، اس لیے کہ  اس میں حقیقی کرنسی کے بنیادی اوصاف اور شرائط بالکل موجود نہیں ہیں، لہذا موجودہ  زمانے میں " کوئن" یا "ڈیجیٹل کرنسی" کی خرید و فروخت کے نام سے انٹرنیٹ پر اور الیکٹرونک مارکیٹ میں جو کاروبار چل رہا ہے وہ حلال اور جائز نہیں ہے، وہ محض دھوکا ہے، اس میں حقیقت میں کوئی مادی چیز نہیں ہوتی، اور اس میں قبضہ بھی نہیں ہوتا ،صرف اکاؤنٹ میں کچھ عدد آجاتے ہیں، اور یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی ایک شکل ہے، اس لیے " بٹ کوائن" یا کسی بھی " ڈیجیٹل کرنسی" کے نام نہاد کاروبار میں پیسے لگانا اور خرید و فروخت میں شامل ہونا جائز نہیں ہے۔

(مستفاد:  تجارت کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا: 2/ 92، ط:بیت العمار)

دارالعلوم دیوبند سے کرپٹو کرنسی کے متعلق  جاری ہونے والے ایک فتوی میں لکھا گیا ہے :

’’کریپٹو کرنسی (بٹ کوئن وغیرہ)کو آپ ڈیجیٹل کرنسی کہیں یا ڈیجیٹل تجارتی چیز، بہر صورت یہ ایک فرضی چیز ہے اور اس کا عنوان ہاتھی کے دانت کی طرح محض دکھانے کی چیز ہے۔بٹ کوئن یا کوئی بھی کریپٹو کرنسی فقہائے کرام کی تصریحات کی روشنی میں از روئے شرع مال نہیں ہے اور نہ ہی یہ ثمن عرفی ہے۔ نیز اس کاروبار میں حقیقت میں کوئی مبیع وغیرہ نہیں ہوتی اور نہ ہی اس میں بیع کے جواز کی شرعی شرطیں پائی جاتی ہیں؛ بلکہ در حقیقت یہ فاریکس ٹریڈنگ کی طرح سود اور جوے کی شکل ہے ؛ اس لیے کرپٹو کرنسی (:بٹ کوئن یا کسی بھی ڈیجیٹل کرنسی) کی خرید وفروخت کی شکل میں نیٹ پر چلنے والا کاروبار شرعاًحلال وجائز نہیں ہے؛ اس لیے کسی مسلمان کے لیے اس کاروبار میں پیسے انویسٹ کرنا بھی شرعاً جائز نہ ہوگا ‘‘۔

(جواب نمبر: 158329۔فتوی:470-424/N=5/1439)

البحر الرائق میں ہے:

"وفي الكشف الكبير المال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجةوالمالية إنما ثبت بتمول الناس كافة أو بتقوم البعض الخ."

(کتاب البیع،ج:5،ص:277،ط:دار الکتاب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: مالا أو لا) إلخ، المراد بالمال ما يميل إليه الطبع ويمكن ادخاره لوقت الحاجة، والمالية تثبت بتمول الناس كافة أو بعضهم، والتقوم يثبت بها وبإباحة الانتفاع به شرعا؛ فما يباح بلا تمول لايكون مالًا كحبة حنطة وما يتمول بلا إباحة انتفاع لا يكون متقوما كالخمر، وإذا عدم الأمران لم يثبت واحد منهما كالدم بحر ملخصًا عن الكشف الكبير.

وحاصله أن المال أعم من المتمول؛ لأن المال ما يمكن ادخاره ولو غير مباح كالخمر، والمتقوم ما يمكن ادخاره مع الإباحة، فالخمر مال لا متقوم،» ... وفي التلويح أيضًا من بحث القضاء: والتحقيق أن المنفعة ملك لا مال؛ لأن الملك ما من شأنه أن يتصرف فيه بوصف الاختصاص، والمال ما من شأنه أن يدخر للانتفاع وقت الحاجة، والتقويم يستلزم المالية عند الإمام والملك ... وفي البحر عن الحاوي القدسي: المال اسم لغير الآدمي، خلق لمصالح الآدمي وأمكن إحرازه والتصرف فيه على وجه الاختيار، والعبد وإن كان فيه معنى المالية لكنه ليس بمال حقيقة حتى لايجوز قتله وإهلاكه."

(کتاب البیوع ج نمبر ۴ ص نمبر ۵۰۱،ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144503101953

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں