بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1442ھ- 05 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

کیا چوری کرنے والے کی نمازیں قبول ہوں گی؟


سوال

 اگر کوئی آدمی کسی کے ساتھ نوکری کرتا ہے اور اس سے پیسے چوری کرتا ہے تو کیا اس کی نمازیں قبول ہوں گی یا نہیں؟

جواب

چوری کرنا اور ناحق کسی کا مال کھانا ناجائز اور حرام ہے، ناحق مال کھانے والے کے لیے قرآن و حدیث میں بہت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،  چوری کرنے والے کی نمازیں اگر چہ دنیا کے احکام کے اعتبار سے ادا ہوجائیں گی اور اگر وہ نمازیں عند اللہ مقبول ہوجائیں تو بھی جن لوگوں کا ناحق مال کھایا ہو اگر ان کو دنیا میں مال واپس نہ کیا ہو یا ان سے معاف نہ کروایا ہو تو قیامت میں یہ مقبول نمازیں حق دار کو دینا پڑیں گی۔

  بعض کتبِ فقہ میں منقول ہے کہ:

’’ناحق مال کھانے والے سے ایک دانق (جو درہم کا چھٹا حصہ ہوتا ہے) کے  بدلے میں اس کی سات سو مقبول  نمازیں، حق دار کو دے دی جائیں گی‘‘۔

ظلم کوئی معمولی چیز نہیں ہے، ساری عبادتیں اس وقت ناکافی ہیں جب تک ظلم سے برات نہ ہو۔

ایک حدیثِ مبارک میں ہے کہ:

’’رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ علیہم سے دریافت کیا کہ: ”تم مفلس کس کو سمجھتے ہو؟ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا کہ مفلس وہ ہے جس کے پاس درہم اور دینار نہ ہوں، اور مال واسباب نہ ہوں، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن آئے اور اس نے نمازیں بھی پڑھی ہوں، اور روزے بھی رکھے ہوں،  اور زکات بھی دیتا رہا ہو، مگر اس کے ساتھ اس نے کسی کو گالی دی تھی، کسی پر تہمت لگائی تھی، کسی کا ناحق مال کھایا تھا، ناحق خون بہایا تھا، کسی کو مارا تھا،  اب قیامت میں ایک اس کی یہ نیکی لے گیا اور دوسرا دوسری نیکی لے گیا، یہاں تک کہ اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں، لیکن پھر بھی حق دار بچ گئے، تو پھر باقی حق داروں کے گناہ  اس پر لاد دیے جائیں گے، یہاں تک کہ وہ گناہوں میں ڈوب کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا، یہ ہے حقیقی مفلس“۔

اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

"اللہ تعالیٰ اس بندے پر رحم فرمائے جس نے کسی مسلمان بھائی کے ساتھ زیادتی کی ہو، خواہ عزت و آبرو کے حوالے سے یا مال کے حوالے سے، پھر وہ اس (صاحبِ حق) سے معاف کروالے قبل اس کے کہ (قیامت میں) اس کا مواخذہ کیا جائے،  (کیوں کہ) وہاں دینار اور درہم نہیں ہوں گے، (بلکہ) اگر  اس کی نیکیاں ہوں گی تو اس کی نیکیاں لے لی جائیں گی، اور اگر نیکیاں نہیں ہوں گی تو ان (اصحابِ حقوق) کے گناہ اس پر لاد دیے جائیں گے۔" ـ(الترمذی)

لہذا مذکورہ شخص کو چوری سے توبہ کرنا چاہیے، اور جو  مال ناحق   چرایا ہے، اس کو واپس کرنا ضروری ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی توبہ واستغفار کرنا لازم ہے۔

صحيح مسلم (4/ 1997):

"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «أتدرون ما المفلس؟» قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع، فقال: «إن المفلس من أمتي يأتي يوم القيامة بصلاة، وصيام، وزكاة، ويأتي قد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا، فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه، ثم طرح في النار»".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 438):
"الصلاة لإرضاء الخصوم لاتفيد، بل يصلي لله، فإن لم يعف خصمه أخذ من حسناته جاء: «أنه يؤخذ لدانق ثواب سبعمائة صلاة بالجماعة».
(قوله: جاء) أي في بعض الكتب، أشباه عن البزازية، ولعل المراد بها الكتب السماوية أو يكون ذلك حديثاً نقله العلماء في كتبهم: والدانق بفتح النون وكسرها: سدس الدرهم، وهو قيراطان، والقيراط خمس شعيرات، ويجمع على دوانق ودوانيق؛ كذا في الأخستري حموي (قوله: ثواب سبعمائة صلاة بالجماعة) أي من الفرائض لأن الجماعة فيها: والذي في المواهب عن القشيري سبعمائة صلاة مقبولة ولم يقيد بالجماعة. قال شارح المواهب: ما حاصله هذا لاينافي أن الله تعالى يعفو عن الظالم ويدخله الجنة برحمته ط ملخصاً". 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144202200969

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں