بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 محرم 1446ھ 23 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا عورتیں حج و عمرہ کے دوران حرمین شریفین میں جمعہ کی نماز ادا کرسکتی ہیں؟


سوال

کیا عورتیں حج و عمرہ کے دوران حرمین شریفین میں جمعہ کی نماز ادا کرسکتی ہیں؟ یا اس کا کچھ اور حکم ہے؟وضاحت کیجیے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر چہ خواتین پرجمعہ کی نماز فرض نہیں ہے،تاہم اگر وہ حرمین شریفین میں حج و عمرہ کے دوران جمعہ کی نماز ادا کرلیں تو ان کافرض ادا ہوجائےگا،دوبارہ سے ظہر کی نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

"بدائع الصنائع"میں ہے:

"ثم هؤلاء الذين لا جمعة عليهم إذا حضروا الجامع وأدوا الجمعة فمن لم يكن من أهل الوجوب كالصبي والمجنون فصلاة الصبي تكون تطوعا ولا صلاة للمجنون رأسا، ومن هو من أهل الوجوب كالمريض والمسافر والعبد والمرأة وغيرهم تجزيهم ويسقط عنهم الظهر؛ لأن امتناع الوجوب عليهم لما ذكرنا من الأعذار وقد زالت."

(ص:٢٥٩،ج:١،کتاب الصلاۃ،فصل بیان شرائط الجمعة،ط:دار الكتب العلمية)

"الفتاوي الهندية"میں ہے:

"ومن ‌لا ‌جمعة ‌عليه إن أداها جاز عن فرض الوقت."

(ص:١٤٤،ج:١،کتاب الصلاۃ،الباب السادس عشر في صلاة الجمعة،ط:دار الفكر،بيروت)

"تبيين الحقائق"میں ہے:

"قال رحمه الله (ومن ‌لا ‌جمعة ‌عليه إن أداها جاز عن فرض الوقت)؛ لأن السقوط لأجله تخفيفا فإذا تحمله جاز عن فرض الوقت كالمسافر إذا صام والذي ‌لا ‌جمعة ‌عليه هو المريض والمسافر والمرأة والعبد والمختفي من السلطان الظالم ومن لا يقدر على المشي كالمقعد والمفلوج ومقطوع الرجل والشيخ الفاني والأعمى، وإن وجد قائدا على قول أبي حنيفة."

(ص:٢٢١،ج:١،کتاب الصلاۃ،باب صلاة الجمعة،دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم


فتوی نمبر : 144503100037

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں