بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا اپنی ضرورت سے زائد پراپرٹی رکھنا ناجائز ہے؟


سوال

پراپرٹی اپنی ضرورت سے زیادہ روکنا اس میں انوسٹ کرنا سراسر ناجائز اور حرام ہے۔ اور یہ سود کے کاروبار سے بڑا گناہ ہے۔ آپ کے کسی عمل سے کسی دوسرے کو نقصان پہنچے اسلام میں حرام عمل ہے اور کوئی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا ۔اسلام میں ذخیرہ اندوزی کی تو سخت الفاظ میں ممانعت ہے۔ اب پراپرٹی کے مکر وہ  دھندے کی بات کرتے ہیں جو کے پراپرٹی کے جواریوں نے ذخیرہ اندوزی کر کے ٹکے ٹکے کی پراپرٹی آسمان پر لے گئے ہیں اور ان کی دیکھا دیکھی عام آدمی بھی اس حرام دھندے میں شامل ہو گیا ہے۔ اور  جس پلاٹ مکان اور فلیٹ پر کسی ضرورت مند کا حق ہے جو کہ ہماری بے جا پراپرٹی ہولڈنگ سے وہ ضرورت مند اسے خرید نے سے محروم ہو گیا؛  لہذا جس کی جتنی ضرورت ہے اتنی ہی پراپرٹی رکھے، اسی طرح ضرورت مند کو چھت مل سکتی ہے۔ اسلام میں تجارت حلال ہے، جائز طریقے سے کریں،  پراپرٹی کا شوق ہے   زرعی زمین لے کر کھیتی باڑی کرکے حلال کھائیں ۔ جب منہ کو حرام لگ جائے تو حلال کا گمان ہوتاہے۔ اگر آپ کی ضرورت 120، 240، 500، 1000 گز کے مکان کی ہے،  ضرور لیں ،  لیکن پلاٹوں اور مکانوں کے انبار نہ لگائیں، اس گھٹیا نیت سے  کہ  مہنگے داموں بیچوں گایہ حلال نہیں،  ٹکے ٹکے کی پراپرٹی مہنگے داموں فروخت کرو۔ اور پراپرٹی کے جواریوں کے حلال عمل کا اندازا  اس بات لگا سکتے ہیں جب آپ پراپرٹی ان سے بیچنے کی بات کریں مارکیٹ گرجاتی ہے،  اور ہزاروں برائیاں اور نقص گنوا دیتے ہیں، ان کا مقصد ضرورت مند کی کھال اتار کر حرام کھانا ہوتا ہے جو  کہ ان کے منہ کو لگ  گیا ہے اور اس دھندے سے وابستہ  کوئی بھی فیئر اور جائز طریقے سے نہیں کر رہا ہے۔ جو لوگ حرام عمل کو حلال سمجھتے ہیں اللہ پاک انہیں آخرت میں تو جہنم کا ایندھن بنائے گا ہی،  لیکن دنیا میں بھی سکون نہیں۔

میں پوچھنا یہ چاہتا ہوں کہ  مذکورہ تحریر  سے کیا ثابت ہوتا ہے کہ جائز یا ناجائز ؟

جواب

ہر شخص کو اپنی ملکیت کی چیزوں میں ہر قسم کے جائز تصرفات کا اختیار ہے،  خواہ وہ زمین خریدے یا کوئی اور چیز خریدے، اور زمین خرید کر رکھنا ذخیرہ اندوزی  میں نہیں آتا، بلکہ ایسی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی جوضروریات میں شامل ہوں  (یعنی ان کا تعلق ضروری غذا سے ہو)، اورذخیرہ اندوزی بھی ایسی ہوکہ جس سے معاشرہ کے افراد تکلیف میں آجاتے ہیں، دام مصنوعی طور پر بڑھ جاتے ہیں یا دام بڑھنے کی صورت میں ان اشیاء کی فروخت بند کردی جاتی ہے، حال آں کہ لوگوں کو اس کی  طلب  ہوتی ہے، اسلام میں ایسی ذخیرہ اندوزی ناجائز ہے؛  لہذا مطلقا یہ کہنا کہ  "اپنی ضرورت سے زیادہ  پراپرٹی روکنا اس میں انویسٹ کرنا سراسر ناجائز اور حرام ہے" یہ بات شرعًا درست نہیں ہے۔

باقی  اگر اس کام کو کرتے ہوئے کوئی ناجائز امر کا مرتکب ہوتا ہے تو  جو شخص ایسا کرے اس کا  وہ فعل ناجائز ہوگا، کسی ایک یا چند افراد کی وجہ سے زمینوں کا کام کرنے والے ہر شخص پر  یا ان کی نیتوں پر حکم لگانا درست طرزِ عمل نہیں ہے، اگر کہیں واقعی کوئی پیش آمدہ صورت ہو تو متعین کرکے اس کا  حکم معلوم کیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144207200875

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں