بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ذو القعدة 1443ھ 30 جون 2022 ء

دارالافتاء

 

کیا ایک صاع سے غسل کرنا سنت ہے اور اس کی مقدار


سوال

کیا ایک صاع سے غسل کرنا سنت ہے ؟اور ایک صاع کی مقدار کتنی ہوتی ہے ؟

جواب

حدیث  شریف میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی ٰ اللہ علیہ وسلم غسل میں ایک صاع یعنی تقریباساڑھے تین  کلو پانی استعمال فرماتے تھے ، علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے هيں:ايك صاع  (ساڑھے تین کلو)پانی غسل میں  سب سے کم ترمسنون مقدارہے،  اگر  مذکورہ  مقدارمیں کچھ کمی زیادتی بھی ہوجائے تو گنجائش ہے، البتہ اتنی کمی کرنا کہ غسل کے صحیح ہونے میں شک ہونے لگے یا اتنا زیادہ پانی بہانا کہ اسراف اور بیجا استعمال کی حد میں آجائے مکروہ ہے۔

حدیث شریف میں ہے:

" عن عائشة: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يغتسل بالصاع، ويتوضأ بالمد."

(سنن أبی داود، باب ما يجزئ من الماء في الوضوء (1/ 68 )ط:دارالرسالۃ)

علامہ کاسانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

"وأما بيان مقدار الماء الذي يغتسل به فقد ذكر في ظاهر الرواية وقال: أدنى ما يكفي في الغسل من الماء ‌صاع."

(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع»کتاب الطہارۃ، (1/ 35)ط:دارالکتب العلمیۃ )

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ذكر في ظاهر الرواية وأدنى ما يكفي من الماء للاغتسال صاع للتوضؤ بمد."

( الفتاوى الهندية»کتاب الطھارۃ،‌‌الباب الثالث في المياه ،‌‌الفصل الأول فيما يجوز به التوضؤ (1/ 16) ط:دارالفکر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله: وقيل المقصود إلخ) الأصوب حذف قيل لما في الحلية أنه نقل غير واحد إجماع المسلمين على أن ما يجزئ في الوضوء والغسل غير مقدر بمقدار. وما في ظاهر الرواية من أن أدنى ما يكفي الغسل صاع، وفي الوضوء مد للحديث المتفق عليه ...كان صلى الله عليه وسلم يتوضأ بالمد، ويغتسل بالصاع إلى خمسة أمداد، ليس بتقدير لازم، بل هو بيان أدنى القدر المسنون. اهـ. قال في البحر: حتى إن من أسبغ بدون ذلك أجزأه، وإن لم يكفه زاد عليه؛ لأن طباع الناس وأحوالهم مختلفة كذا في البدائع اهـ وبه جزم في الإمداد وغيره."

(رد المحتارعلیٰ الدرالمختار،کتاب الطھارۃ، (158/1) ط:دارالفکر)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144309101292

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں