بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ذو الحجة 1445ھ 15 جون 2024 ء

دارالافتاء

 

کیا ایک سے زیادہ مشرق و مغرب ہیں؟/میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کا شرعی حکم


سوال

1:سورت رحمن میں اللّٰہ پاک فرماتے ہیں:(رب المشرقین و رب المغربین) اسکا کیا مفہوم ہے؟کیا ایک سے زیادہ مشرق و مغرب ہیں؟

2:میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے ؟

جواب

1:قرآن کریم میں لفظ مشرق اور مغرب، واحد، تثنیہ اور جمع تینوں صیغوں میں استعمال ہوا ہے، واحد کا صیغہ سورہ مزمل میں:"رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لا إِلَهَ إِلا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلا"،تثنیہ کا صیغہ سورہ رحمٰن میں:"رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ "اور جمع کا صیغہ سورہ معارج میں آیا ہے:"فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ "چونکہ ہر روز سورج کا مطلع بدلتا رہتا ہے، ہر نئے روز سورج کے نکلنے اور اسی طرح غروب ہونے کی جگہ گزشتہ روز کی جگہ سے مختلف ہوتی ہے، چنانچہ اس آیت میں جمع کے صیغہ سے تعبیر فرمایا اور واحد کے صیغوں میں جنس مشارق اور مغارب مراد ہے اور جس آیت میں تثنیہ کے صیغے استعمال ہوئے ہیں وہاں مشرقین اور مغربین سے مراد خاص گرمی اور سردی دو موسموں کے مشرق اور مغرب مراد ہیں۔

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"{رب المشرقين ورب المغربين} يعني: مشرقي الصيف والشتاء، ومغربي الصيف والشتاء. وقال في الآية الأخرى: {فلا أقسم برب المشارق والمغارب} [المعارج: 40] ، وذلك باختلاف مطالع الشمس وتنقلها في كل يوم، وبروزها منه إلى الناس. وقال في الآية الأخرى: {رب المشرق والمغرب لا إله إلا هو فاتخذه وكيلا} [المزمل:9] . وهذا المراد منه جنس المشارق والمغارب، ولما كان في اختلاف هذه المشارق والمغارب، مصالح للخلق من الجن والإنس."

(سورة الرحمن، ج:7، ص:492، ط:دار طيبة للنشر والتوزيع)

تفسیر معارف القرآن میں ہے:

" سردی اور گرمی میں آفتاب کا مطلع بدلتا رہتا ہے، اس لیے سردی کے زمانے میں مشرق یعنی آفتاب کے نکلنے کی جگہ اور ہوتی ہے اور گرمی کے زمانے میں دوسری، انہی دونوں جگہوں کو آیت میں مشرقین سے تعبیر فرمایا ہے، اسی طرح اس کے بالمقابل مغربین فرمایا، کہ سردی میں غروب آفتاب کی جگہ اور ہوتی ہے اور گرمی میں دوسری۔"

(ج:8،ص:247، ط:دار الاشاعت)

2:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ مبارکہ کا ذکر یا  آپ کے اوصاف ومحاسن اور عبادات ومعاملات کا ذکرحتی  کہ جس چیز کی ادنیٰ نسبت بھی نبی کریم ﷺکی جانب ہو اس کا ذکر  یقیناً فعلِ مستحسن اور باعثِ اجروثواب ہے، یقیناً آپ ﷺ کی دنیا میں آمد دنیا کے لیے ایک نعمت ہے، اندھیروں میں ایک روشنی ہے، ایک مسلمان کا  خوش ہونا فطری امر ہے، جس سے انکار ممکن نہیں، البتہ  اس پر خوش ہونے کا وہی طریقہ اختیار کرنا جائز ہے جو  محسنِ کائنات ﷺ سے ثابت ہو، یا صحابہ وتابعین نے اس پر عمل کیا ہو،  یہی آپ ﷺ کی آمد  کے  مقصد  کی حقیقی پیروی ہے،  چوں کہ مروجہ میلاد کا ثبوت قرآن وحدیث اور صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین اور ائمۂ مجتہدین میں سے کسی سے نہیں ہے، بلکہ یہ ساری چیزیں بعد کے لوگوں کی ایجاد کردہ ہیں،اور بدعات میں شامل ہیں، لہذا ان  کا ترک کرنالازم ہے۔

فیض الباری میں ہے:

"واعلم أن القيام عند ذكر ميلاد النبي صلى الله عليه وسلم بدعة لا أصل له في الشرع وأحدثه ملك الإربل كما في «تاريخ ابن خلكان»: أنه كان يعقد له مجالس، ويصرف عليها أموالا"

وعلق عليه الشیخ بدر عالم المیرتھى:"يقول العبد الضعيف: ولا ينبغي أن يشك أن الميلاد المروج بين أظهرنا حرام قطعا، فإنه يشتمل على المحرمات الكثيرة، والمعاصي الظاهرة والباطنة: من إضاعة المال وقراءة الروايات الموضوعة التي لا أصل لها في الدين، وظنهم أن النبي - صلى الله عليه وسلم - عالم للغيب، بحيث لا يغيب عن علمه شيء في السماوات والأرضين، فيحضر النبي - صلى الله عليه وسلم - تلك المجالس، ويقومون عند ذلك، لأنهم يرونه حاضرا وناظرا إلى غير ذلك من تسويلاتهم الباطلة. وهو الغلو في الدين، وقد نعى الله سبحانه على أهل الكتاب، فقال: {يا أهل الكتاب لا تغلوا في دينكم ولا تقولوا على الله إلا الحق} [النساء: 171]، ويظنون أن تعظيم النبي في التسوية بين الله ورسوله، تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا، وما قدروا الله حق قدره، مع أنه تعالى يقول: {وما محمد إلا رسول} [آل عمران: 144] وأين هم من تعظيم الرسول،فالنبي - صلى الله عليه وسلم - لا ريب أنه أفضل الخلق وأحبه وأكرمه على الله، آدم وذريته تحت لوائه، وهو الشافع المشفع، وهو صاحب الحوض، وصاحب المقام، وصاحب مفتاح الجنة، وهو أول من يقعقع حلقة الجنة، وهو خطيبهم إذا صمتوا وشفيعهم إذا يئسوا، ولكنه مع ذلك بشر من البشر، مخلوق لله سبحانه، وعبد من عباده، ورسول من رسله: {ما كان لبشر أن يؤتيه الله الكتاب والحكم والنبوة ثم يقول للناس كونوا عبادا لي من دون الله ولكن كونوا ربانيين بما كنتم تعلمون الكتاب وبما كنتم تدرسون (79) ولا يأمركم أن تتخذوا الملائكة والنبيين أربابا أيأمركم بالكفر بعد إذ أنتم مسلمون (80)} [آل عمران: 79 - 80] فتلك المجالس كلها مجالس البدع، فاحذروها وعليكم بسنة نبيكم، فإنها العروة الوثقى لا انفصام لها. اللهم أحينا على حبك وحب نبيك، وأمتنا على حبك، وحب نبيك، واحشرنا فيمن يحبك ويحب رسولك، آمين، ثم آمين."

(كتاب الأذان، ج:2، ص:406،ط:دار الکتب العلمية)

فتاوی رحیمیہ میں ہے:

"آنحضرت ﷺ کی ولادت شریفہ کا ذکر اور آپ کےموئے مبارکہ لباس، نعلین شرفین اور آپ کی نشست وبرخاست، خورد ونوش، نوم ویقظہ وغیرہ کا حال بیان کرنا اور سننا مستحب اور نزول رحمت وبرکت کا موجب ہے۔۔۔آج کل رسمی مجالس میلاد میں لوگ جمع ہوکر جاہل شعراء کے قصائد اور مصنوعی اور من گھڑت روایات کو برعایت نغمہ وترنم پڑھتے ہیں،اس میں بے نمازی وفاسق بھی ہوتے ہیں، اس مذکورہ طریقہ کو ضروری سمجھتے ہیں، یہ خلاف سنت اور بدعت ہے، نہ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین اور ائمہ کرام میں سے کسی سے ثابت ہے۔"

(کتاب السنۃ والبدعۃ، ج:2، ص:71، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144406101597

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں