بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الاول 1443ھ 26 اکتوبر 2021 ء

دارالافتاء

 

کیا عدالتی فیصلے کو تنسیخِ نکاح قرار دیا جا سکتا ہے؟


سوال

کیا خاوند کی منشا کے بغیر یا خاوند کے عدالت حاضر ہوئے بغیر یا خاوند کے زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کرنے کیے بغیر ہی بیوی کی طرف سے دعویٰ خلع یا تنسیخ کرنے پر جج کا نکاح فسخ کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟

جواب

بعض صورتوں میں جج کی طرف سے کیے گئے عدالتی فیصلہ کو تنسیخِ نکاح قرار دیا جاتا ہے اور اس میں شوہر کی حاضری کے بغیر ہی عورت کے دعویٰ پر نکاح فسخ سمجھا جاتا ہے، لیکن  اس قسم کے عدالتی فیصلے کو تنسیخِ نکاح قرار دینے کے لیے چند شرائط کا پایا جانا ضروری ہے اور وہ یہ کہ یا تو شوہر نامرد ہو، یا مجنون ہو، یا مفقود (لاپتا ہو) ہو یا متعنت (ظالم) ہو کہ بیوی کا نان نفقہ نہ دیتا ہو اور ظلم کرتا ہو۔ پھر عورت اپنے اس دعوی کو شرعی گواہوں کے ذریعے عدالت کے سامنے ثابت بھی کرے۔ نیز متعلقہ صورت میں سے ہر ایک کی شرائطِ معتبرہ کی رعایت رکھی جائے، سو اگر  شرائط پائی گئیں تو عدالت کا فیصلہ شرعاً تنسیخِ نکاح ہوگا اور میاں بیوی میں جدائی ہوجائے گی اور اگر یہ شرائط مکمل نہ ہوں تو ایسے یک طرفہ عدالتی فیصلے کو تنسیخِ نکاح بھی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

تفصیل کے لیے حیلۂ ناجزہ کا مطالعہ کیا جائے۔

اگر سوال میں مسئلہ کی نوعیت کی وضاحت کر دیتے تو تعیین کے ساتھ جواب دینا آسان رہتا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209200252

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں