بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 محرم 1446ھ 22 جولائی 2024 ء

دارالافتاء

 

خصیتین اور آلۂ تناسل ملے ہوئے جانور کی قربانی


سوال

اگرکسی جانورکے خصیتین اور آلہ تناسل ملے ہوئےہوتواس کاقربانی کاحکم کیاہے؟

جواب

اگر  مذکورہ جانور خنثیٰ نہیں تو اس کی قربانی جائز ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"لا تجوز التضحية بالشاة الخنثى؛ لأن لحمها لا ينضج، تناثر شعر الأضحية في غير وقته يجوز إذا كان لها نقي أي مخ كذا في القنية."

وفيه أيضا:

"ويجوز المجبوب العاجز عن الجماع، والتي بها السعال، والعاجزة عن الولادة لكبر سنها، والتي بها كي، والتي لا ينزل لها لبن من غير علة، والتي لها ولد، وفي الأجناس وإن كانت الشاة لها ألية صغيرة خلقت بشبه الذنب تجوز، وإن لم تكن لها ألية خلقت كذلك قال محمد - رحمه الله تعالى -: لا تجوز، كذا في الخلاصة."

(الفتاوي الهندية، كتاب الأضحية،  الباب الخامس في بيان محل إقامة الواجب، 297/5 ط: دار الفكر)

فتاوی شامی میں ہے:

"تجوز التضحية بالمجبوب العاجز عن الجماع، والتي بها سعال، والعاجزة عن الولادة لكبر سنها."

(رد المحتار مع الدر المختار، كتاب الأضحية،  6 /325 ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم 


فتوی نمبر : 144401101010

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں